السلام علیکم !
مفتی صاحب عرض ہے کہ موجودہ حالات میں عمرے پر 5دن" قرنطینہ" لاگو کردیاگیا ہے ، جو حضرات سعودی عرب عمرہ کی نیت سے جائیں گے ان پر احرام نا باندھنے کی صورت میں دم آئے گا یا نہیں ؟ اور اس کے لئے احرام باندھنے کی کیا شرط ہے ؟ برائے مہربانی اصلاح فرمادیں ۔
واضح ہو کہ جو شخص میقات کی حدود سے باہر مقیم ہو (آفاقی ہو) وہ اگر حدودِ حرم میں داخل ہونے کی نیت سے سفر کر کے آئے تو ایسی صورت میں عند الأحناف اس کے لئے میقات کی حدود میں بغیر احرام کے داخل ہونا درست نہیں ، لہذا میقات کی حدود سے باہر مقیم اگر عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہتے ہوں تو ان کے ذمہ میقات کی حدود میں داخل ہونے سے قبل بہر حال احرام باندھنالازم اور ضروری ہو گا، البتہ اگر موجودہ حالات میں ” قرنطینہ “ کی وجہ سے احرام باندھنے کے بعد مشکلات در پیش ہوں تو ایسی صورت میں باہر سے آنے والے افراد کو چاہیئے کہ حدودِ حرم میں داخل ہونے کی نیت سے نہ آئیں،بلکہ حدودِ حرم سے باہر اور میقات کے اندر ”حل“ میں کسی مقام کی نیت کر کے آئیں، چنانچہ ایسا کرنے سے میقات کی حدود میں داخل ہونے سے قبل ان کی ذمہ احرام باندھنا لازم نہ ہو گا ،پھر جب وہ حل میں داخل ہوں گے تو اس کے بعد اگر وہ عمرہ کی نیت کے بغیر حرم میں داخل ہونا چاہیں تو ان کے لئے حدودِ حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونا بھی درست ہوگا، البتہ جب عمرہ کرنے کا ارادہ ہو تو ایسی صورت میں حدودِ حرم سے باہر کسی مقام پر ( مسجد عائشہ وغیرہ ) میں احرام باندھنا لازم ہو گا، چنانچہ موجودہ حالات میں مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق عمل کیا جا سکتا ہے۔
کما فی الدر : (آفاقی) مسلم بالغ (يريد الحج) ولو نفلا (أو العمرة) فلو لم يرد واحدا منهما لا يجب عليه دم بمجاوزة الميقات، وإن وجب حج أو عمرة إن أراد دخول مكة أو الحرم على ما سيأتي فی المتن قريبا (وجاوز وقته) ظاهر ما فی النهر عن البدائعاعتبار الإرادة عند المجاوزة (ثم أحرم لزمه دم) اھ (2/579)۔
و فیه ائضاً : (دخل كوفی ) أي آفاقي (البستان) أي مكانا من الحل داخل الميقات (لحاجة) قصدهاولو عند المجاوزة على ما مر، ونية مدة الإقامة ليست بشرط على المذهب (له دخول مكة غير محرم ووقته البستان ولا شيء عليه) لأنه التحق بأهله كما مر، وهذه حيلة لآفاقي يريد دخول مكة بلا إحرام اھ (2/581)۔
و فی الہندیة : ومن جاوز الميقات وهو يريد الحج والعمرة غير محرم فلا يخلو إما أن يكون أحرم داخل الميقات أو عاد إلى الميقات ثم أحرم فإن أحرم داخل الميقات ينظر إن خاف فوت الحج متى عاد فإنه لا يعود ويمضي فی إحرامه ولزمه دماھ (1/253)۔