السلام علیکم مفتی صاحب! میری شادی کو سترہ سال ہو گئے ہیں اور میرے ماشاء اللہ پانچ بیٹے ہیں، بڑا بیٹا سولہ سال کا ہے، میں نے دوبارہ نکاح (20 جون 2021) کو کیا ہے، میری دوسری بیوی کہتی ہے آپ ایک دن پہلی والی کے ساتھ رہے اور ایک دن دوسری والی کے ساتھ ۔ میں گورنمنٹ ملازم ہوں، مجھے دوسری شادی کی اجازت پہلی والی نے دی تھی ، جب میں نے دوسرا نکاح کیا تو پہلی والی ناراض ہو گئی چھ مہینے اپنے والدین کے پاس تھی ، اب میں اس کو راضی کر کے واپس لے آیا ہوں، دوسری بیوی میرے والدین کے گھر پر ہے ، میرے بچوں کو آئے آج چار دن ہو گئے ہیں، نہ یہ اسکول جارہے ہیں اور نہ مدرسے کیونکہ مجھے ٹائم نہیں مل رہا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں میری راہ نمائی فرمائیں کے میں کتنے دن پہلی والی کے ساتھ رہوں اور کتنے دن دوسرے والی کے ساتھ رہوں۔ مہربانی فرما کر مجھے فتوی دیں۔
واضح ہو کہ دو یا دو سے زیادہ بیویوں کے درمیان رات گزار نے اور نان نفقہ دینے اور رہائش دینے میں برابری کا معاملہ کرنا شوہر پر واجب ہے، چنانچہ سائل اپنی دونوں بیویوں کے درمیان ان کے حقوق میں برابری کر رہا ہو تو وہ بری الذمہ ہے، جبکہ دن کو کسی بیوی کے پاس رہنے میں برابری کرنا لازم ہی نہیں۔
ففي سنن الترمذي: عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقسم بين نسائه، فيعدل، ويقول: «اللهم هذه قسمتي فيما أملك، فلا تلمني فيما تملك ولا أملك» (3/ 438)
وفى مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كانت عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط» رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي(2/ 965)
وفي الدر المختار: باب القسم بفتح القاف: القسمة: وبالكسر: النصيب (يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (و في الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحيانا ولا يبلغ الإيلاء إلا برضاها، ويؤمر المتعبد بصحبتها أحيانا، وقدره الطحاوي بيوم وليلة من كل أربع لحرة وسبع لأمة ولو تضررت من كثرة جماعه لم تجز الزيادة على قدر طاقتها، والرأي في تعيين المقدار للقاضي بما يظن طاقتها نهر بحثا اھ (3/ 203)