السلام علیکم!
اسلام میں انشورنس کروانا جائز ہے ؟ جیسے کہ میڈیکل انشورنس، لائف انشورنس وغیرہ۔
انشورنس ایک معاملہ ہے، جو انشورنس کے طالب اور انشورنس کمپنی کے درمیان ہوتا ہے، جس میں انشورنس کمپنی کسٹمر سے ایک معینہ رقم بالاقساط وصول کرتی رہتی ہے ،اور ایک معینہ مدت کے بعد وہ رقم اُسے یا اس کے پسماندگان کو حسبِ شرائط واپس کر دیتی ہے ،اور ساتھ ہی مقررہ شرح فیصد کے حساب سے اصل رقم کے ساتھ مزید رقم بطور سود دیتی ہے۔ انشورنس کمپنی کا مقصد اس رقم کے جمع کرنے سے یہ ہوتا ہے کہ اسے دوسرے لوگوں کو بطور قرض دیکر ان سے اعلیٰ شرح پر سود حاصل کرے ،یا کسی تجارت میں لگا کر یا کسی جائیداد کو خرید کر اس سے منافع حاصل کرے، لہٰذا اس حقیقت کے لحاظ سے انشورنس کا معاملہ ایک سودی کاروبار کا معاملہ ہوتا ہے، جو بینک کے کاروبار کے مثل ہے، دونوں میں فرق صرف شکل کا ہے حقیقت کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں، حقیقت میں اگر فرق ہے ،تو صرف اتنا ہے کہ اس میں ربا کے ساتھ غرر بھی پایا جاتا ہے، جیسا کہ اوپر اس کی تعریف سے واضح ہوتا ہے۔ جبکہ اس میں قمار بھی پایا جاتا ہے، وہ اس طور پر کہ ایک طرف سے تو ادائیگی متعین ہے، دوسری طرف سے ادائیگی موہوم ہے، جو قسطیں ادا کی گئی ہیں ،وہ رقم بھی مل سکتی ہے، اور ا س سے زیادہ بھی مل سکتی ہے، اسی کو قمار کہتے ہیں، اس لئے مروّجہ انشورنس پالیسیوں میں شرکت سے منع کیا جاتا ہے، لہذا اس سے احتراز واجب ہے۔
كما في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): وبما قررناه يظهر جواب ما كثر السؤال عنه في زماننا: وهو أنه جرت العادة أن التجار إذا استأجروا مركبا من حربي يدفعون له أجرته، ويدفعون أيضا مالا معلوما لرجل حربي مقيم في بلاده، يسمى ذلك المال: سوكرة على أنه مهما هلك من المال الذي في المركب بحرق أو غرق أو نهب أو غيره، فذلك الرجل ضامن له بمقابلة ما يأخذه منهم، وله وكيل عنه مستأمن في دارنا يقيم في بلاد السواحل الإسلامية بإذن السلطان يقبض من التجار مال السوكرة وإذا هلك من مالهم في البحر شيء يؤدي ذلك المستأمن للتجار بدله تماما، والذي يظهر لي: أنه لا يحل للتاجر أخذ بدل الهالك من ماله لأن هذا التزام ما لا يلزم اھ (4/ 170)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0