*کراہتِ تحریم کی صورت میں بعد از وقت اعادہ صلاۃ کا حکم*
سوال: زید کا کہنا ہے کہ کراہتِ تحریمیہ کے ساتھ ادا کی گئی نماز کا اعادہ جس طرح وقت کے اندر واجب ہے اسی طرح وقت کے بعد بھی واجب ہے، جبکہ عمر کا کہنا ہے کہ اسطرح کی نماز کا اعادہ وقت کے اندر تو واجب ہے لیکن وقت گزرنے کے بعد اسکا اعادہ مستحب ہے.
*عمر کی دلیل*
مشہور عبارت ہے جو بحر الرائق اور حاشیۃ الطحطاوی وغیرہ کتب میں لکھی ہوئی ہے، یعنی "کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تعاد ای وجوبا فی الوقت و اما بعدہ فندبا"
جبکہ زید کہتا ہے صاحب بحر الرائق کا *تعاد* کی تفسیر *ای وجوبا و ما بعدہ فندبا* کے ساتھ کرنا بلا دلیل ہے، اسلئے صاحب بحر سے پہلے کسی نے یہ تفصیل بیان نہیں کی، بلکہ مطلقاً اعادہ کا حکم لگایا، چنانچہ اعادہ جس طرح وقت کے اندر واجب ہوگا تو وقت کے گزرنے کے بعد بھی واجب ہی رہے گا، زید اپنی اس بات پر صاحب رد المحتار کی درج ذیل عبارت پیش کرتا ہے.
وَأَمَّا كَوْنُهَا وَاجِبَةً فِي الْوَقْتِ مَنْدُوبَةً بَعْدَهُ كَمَا فَهِمَهُ فِي الْبَحْرِ وَتَبِعَهُ الشَّارِحُ فَلَا دَلِيلَ عَلَيْهِ. وَقَدْ نَقَلَ الْخَيْرُ الرَّمْلِيُّ فِي حَاشِيَةِ الْبَحْرِ عَنْ خَطِّ الْعَلَّامَةِ الْمَقْدِسِيَّ أَنَّ مَا ذَكَرَهُ فِي الْبَحْرِ يَجِبُ أَنْ لَا يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ لِإِطْلَاقِ قَوْلِهِمْ: كُلُّ صَلَاةٍ أُدِّيَتْ مَعَ الْكَرَاهَةِ سَبِيلُهَا الْإِعَادَةُ. اهـ.
برائے مہربانی وضاحت فرما دیں کہ ان میں سے کس کی بات درست ہے، کیا واقعتاً صاحب بحر الرائق کے قول "ای وجوبا و ما بعدہ فندبا" پر کوئی دلیل نہیں، اگر ہے تو وہ کیا ہے، اور صاحب ردالمحتار کی بات کہاں تک درست ہے.
والسلام
واضح ہو کہ ہر وہ نماز جس میں کسی داخلی امر (واجب چھوٹنے) کیوجہ سےنقص آجائے تو سجدہ سہو کے ذریعے اس کی تلافی لازم ہوگی، لیکن اگر کسی نے سجدہ سہو بھی نہ کیا تو ایسی صورت میں واجب چھوٹنے کیوجہ سے نماز واجب الاعادہ ہوگی، لیکن پہلی نماز سے فرضیت ساقط ہوچکی ہے، اب اعادے کی حیثیت سجدہ سہو کی طرح ہوگی جو نقصان کی تلافی کےلیے کی جائے گی، اس لیے راجح قول کے مطابق وقت کے اندر ایسی نماز کا اعادہ واجب ہوگا، وقت گزرنے کے بعد اعادہ لازم نہیں بلکہ مستحب ہے، جبکہ وقت گزرنے کے بعد اعادہ واجب ہونے کے متعلق جو اقوال ہیں ان کے متعلق علماءکرام نے تطبیق کی صورت یہ لکھی ہے کہ اگر کسی نے قصداً کوئی واجب عمل ترک کیا تو اس کے ذمہ وقت گزرنے کے بعد بھی اعادہ لازم ہوگا، البتہ اگر کسی سے سہو واجب چھوٹ جائے تو پھر وقت گزرنے کے بعد اعادہ مستحب ہوگا۔
کما فى مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح: وحكم الواجب استحقاق العقاب بتركه عمدا وعدم إكفار جاحده والثواب بفعله ولزوم سجود السهو لنقض الصلاة بتركه سهوا وإعادتها بتركه عمد أو سقوط الفرض ناقصا إن لم يسجد ولم بعداه(ص: (93)۔
وفي اللباب في شرح الكتاب: والسهو يلزم أي: يجب، قال في الهداية وهذا يدل على أن سجدة السهو واجبة، وهو الصحيح. اهـ (إلى قوله) (أو ترك فعلا مسنوناً)أي: واجباً عرف وجوبه بالسنة، كالقعدة الأولى، أو قام في موضع القعود، أو ترك سجدة التلاوة عن موضعها. جوهرة اهـ (951)۔
وفي الدر المختار: ( ولها واجبات لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا آثما وكذا كل صلاة أديت مع كراهة لتحريم تجب إعادتها. والمختار أنه جابر للأول ، لأن الفرض لا يتكرراه (1/ 458)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (رد المحتار) : (قوله والمختار أنه أي الفعل الثاني جابر للأول بمنزلة الجبر بسجود السهو وبالأول يخرج عن العهدة وإن كان على وجه الكراهة على الأصح، كذا في شرح الأكمل على أصول البزدوي اهـ ( 1 / 457)۔
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0