محرم کا مہینہ ہے،میرے کچھ دوست نوحہ سنتے ہیں،میں منع کرتا ہوں کہ یہ سننا جائز نہیں ہے،وہ نہیں مانتے،کہتے ہیں کہ اس کا فتوی دکھاؤ ،اس بارے میں بتادے۔
واضح ہو کہ نوحہ خوانی شرعا ممنوع عمل ہے اور بنی کریم ﷺ نے اس کی سخت مذمت بیان فرمائی ہے اور جو عمل شرعا ممنوع ہو اس کو بالقصد سننا اور اس میں دلچسپی لینا بھی ممنوع ہے،لہذا سائل کے دوستوں کو نوحہ سننے سے اجتناب چاہیے۔
کما فی مشكاة المصابيح : عن ابی سعید الخدری قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم النائحہ و المستمعہ رواہ ابو داود(1/543)
و فی صحيح مسلم : عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من ضرب الخدود، أو شق الجيوب، أو دعا بدعوى الجاهلية»(1/ 99)
و فیہ ایضا :حدثه أن أبا مالك الأشعري، حدثه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " أربع في أمتي من أمر الجاهلية، لا يتركونهن: الفخر في الأحساب، والطعن في الأنساب، والاستسقاء بالنجوم، والنياحة " وقال: «النائحة إذا لم تتب قبل موتها، تقام يوم القيامة وعليها سربال من قطران، ودرع من جرب»(2/ 644)
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1