بیمۂ زندگی کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ آیا یہ شرعاً جائز ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں ہے تو براہِ کرم تفصیلی جواب ارسال فرمائیں۔
انشورنس جس کا معنیٰ یقین دہانی ہے، چونکہ کمپنی انشورنس کرانے والے کو مستقبل میں بعض خطرات سے حفاظت اور بعض نقصانات کی تلافی کی یقین دہانی کر ادیتی ہے، اس لئے اسے انشورنس کمپنی کہتے ہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ انشورنس ایک معاملہ ہے، انشورنس ،انشورنس کے طالب اور انشورنس کمپنی کے درمیان ہوتا ہے، جس میں انشورنس کمپنی اپنے کسٹمرسے ایک معینہ رقم بالاقساط وصول کرتی ہے، اور ایک معینہ مدت کے بعد وہ رقم اسے یا اس کے پس ماندگان کو حسبِ شرائط واپس کر دیتی ہے ،اور ساتھ ہی مقررہ شرح فیصد کے حساب سے اصل رقم کیساتھ مزید رقم بطور ِسود دیتی ہے۔
انشورنس کمپنی کا مقصد اس رقم کے جمع کرنے سے یہ ہوتا ہے کہ اُسے وہ دوسرے لوگوں کو بطور ِقرض دے کر ان سے اعلیٰ شرح پر سود حاصل کرے ،یا کسی تجارت میں لگا کر یا کسی جائیداد کو خرید کر اس سے منافع حاصل کرے، لہٰذا اس حقیقت کے لحاظ سے انشورنس کا معاملہ ایک سودی کاروبار کا معاملہ ہوتا ہے، جو بینک کے کاروبار کے مثل ہے دونوں میں فرق صرف شکل کا ہے حقیقت کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں، حقیقت میں اگر فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ اس میں ربا کے ساتھ غرر بھی پایا جاتا ہے ،وہ اس طور پر کہ ایک طرف سے تو ادائیگی متعین ہے، دوسری طرف سے ادائیگی موہوم ہے جو قسطیں ادا کی گئی ہیں وہ رقم بھی مل سکتی ہے ،اور ا س سے زیادہ بھی مل سکتی ہے، اسی کو قمار کہتے ہیں، اس لئے مروّجہ انشورنس پالیسیاں چاہے ان کا تعلق زندگی سے ہو یا دیگر اشیاء سے ہو، ان میں شرکت سے منع کیا جاتا ہے، لہذا اس سے احتراز واجب ہے۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0