میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم ہوں، جہاں یورپ سے مشینیں منگواکر کمپنی کے پروجیکٹ پر کام ہوتا ہے ، میری کمپنی کے مالک نے اجازت دی ہے کہ جن سے ہماری کمپنی مشینیں خریدتی ہے ، ان کے خرچے پر آپ اندرون ملک و بیرون ملک جا سکتے ہو ، اب ایک کمپنی نے ہمیں مشینیں بھی دی اور اور ان کے کا نفرنس میں شمولیت کی غرض سے کیش پیسے بھی دیے ، میں نے ان پیسوں سے ویزہ لگوایا ،لیکن کرونا کی وجہ سے جسمانی طور پر نہیں جاسکا، لیکن آن لائن شمولیت کا آپشن لے لیا تھا، کیا اب وہ ٹکٹ کے پیسے ، گفٹ ، اور سفر میں آنے والے خرچے میرے لیے حلال ہے کہ نہیں ؟ کیونکہ وہ تو خرچ نہ ہو سکے ، جبکہ آن لائن اتنا خرچہ نہیں آتا ، اس پر نہ میری کمپنی کو کوئی اشکال ہے اور نہ جن سے میں نے مشینیں لی تھی انہیں، وہ کہتے ہے آپ جیسے کرنا چاہے، ہمیں کوئی اشکال نہیں، اُن کے بقول ان کی کمپنی بھی مشینیں استعمال کرنے والوں کے لیے بجٹ میں رکھتے ہیں تاکہ اگر کبھی کوئی مسئلہ آئے تو وہ اپنی طرف سے مشین استعمال کرنے والے کو بیرون ملک سے ٹریننگ کروادیں یا کوئی متعلق کا نفرنس میں بھیج دیں۔ شکریہ۔
سائل کو کمپنی کی طرف سے کا نفرنس میں شمولیت کی غرض سے جو رقم ملی تھی، جبکہ سائل کسی عذر کی وجہ سے کا نفرنس میں شرکت نہ کر سکا، تو وہ رقم سائل کے پاس کمپنی کی امانت ہے ، جسے کمپنی کو واپس کرنا لازم ہے، البتہ اگر کمپنی کے مالکان سائل کو مذکور رقم استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے ، تو ایسی صورت میں سائل کا اس رقم کو استعمال کرنا بلا شبہ جائز و درست ہو گا۔
لما في التنزيل العزيز {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ } [النساء: 29]
و في صحيح البخاري: وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «المسلمون عند شروطهم» اھ (3/ 92)
كما في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ(2/ 889)