میں نے اپنی بیٹی کو حال ہی میں ایک مغربی ملک میں بھیجا ، لیکن میں نے اس کو اپنے حجاب کے بارے میں بہت سے دقیانوسی تصورات کا سامنا کرتے ہوئے پایا، اور وہ جد جہد کر رہی ہے، اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے لگتا ہے کہ حجاب اتارنا ایک اچھا خیال ہے، اور وہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ اپنے مذہب پر شکوہ کرتی ہے، بلکہ اس لئے کہ وہ حجاب اور تعلیم دونوں کی اہمیت کو جانتی ہے، لیکن مغربی معاشرہ اس حجاب کے مخالف ہے ، تو اب کیا کرنا چاہیئے ، حجاب کے ساتھ ناکامیوں کا سامان کرے، یا حجاب اتار دے اور پڑھائی میں مشغول رہے؟
واضح ہو کہ مسلمان بالغہ عورت کے لیے اجنبی مردوں سے پردہ اور حجاب کرنا لازم ہے، اور وہ حجاب بھی پورے بدن کا ہو، اس لئے مغربی ممالک کے معاشرے سے متاثر ہو کر اپنے دین اور عزت کو چھوڑدینا کوئی دانشمندی نہیں ،بلکہ دنیا وآخرت کی کئی ایک رسوائیوں کا ذریعہ ہے، اس لئے سائل کو چاہئیے کہ اپنی بیٹی کو پردے کی تاکید کرے، اس کے ساتھ جتنی تعلیم ممکن ہو وہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
قال اللہ تعالی: وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ (سورۃ الاحزاب ایة 53)۔
وفیہ ایضاً: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (سورۃ الاحزاب ایة 59)۔
وفی الدرالمختار: (وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ، الخ (1/406)۔
و فی ردالمحتار: تحت(قوله وتمنع المرأة إلخ) أي تنهى عنه وإن لم يكن عورة (قوله بل لخوف الفتنة) أي الفجور بها قاموس أو الشهوة. والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة الخ (1/406)۔