اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
بعد از سلام دارالافتإ جامعہ بنوریہ العالمیہ ساٸٹ کراچی
کیا فرماتے ہے علمإ کرام ومفتیان عزّام میرے اس مسٸلہ کے بارے میں
میرا ایک چھوٹا بھاٸی ہے جوکہ اُس کی عمر 14 سے 15 سال ہوگی
13 سال کی عمر ہی میں والدہ محترمہ نے ان کیلۓ موباٸل خرید کر دے دیا تھا اور پب جی ۔فیسبک وٹس ایپ سب بنالیۓ تھے ۔رفتہ رفتہ دینی تعلیم اور دنیاوی تعلیم سے دل ابھرنے لگ گیا
اب میرا بھاٸی ١٤ سے ١٥ سال کی عمر تک جا پہنچا لیکن بدقسمتی سے انہے نماز دعاٸیں بالکل نہیں آتی اور پڑھنے میں دل نہیں لگتا خرافات کی طرف دل ماٸل ہوتا جارہا ہے
رات کو تقریباً دو دو بجے تک موباٸل استعمال کررہا ہوتا ہے
اس بات پر میں نے اپنے والدین سے کہا کہ دیکھیں اس کی عمر بہت کم ہے اور نادان ہے اس کو موباٸل لے کر مت دو ۔اس کو نمازیں سیکھاٶ دعاٸیں سکھاٶ یا پھر کسی اچھے سکول یا مدرسہ میں داخل کراٶ تاکہ بچہ کا مستقبل تو ٹھیک ہوجاۓ ۔حرام حلال جاٸز ناجاٸز کی تمیز تو کرسکے
لیکن والدین کہتے ہے نہیں ہم لے کر دینگے موباٸل
اور جو بھی غلط حرکت یا بدتمیزی اور گالیاں دیتا ہے تو جب میں تنبیہ کرتا ہوں
تو فواراً والدین غصہ ہوتے ہے
میں نے والدین سے کہا کہ دیکھیں بچے پر ظلم نہ کریں
اس میں آپ لوگوں کا گناہ ہوگا
بچہ بالکل انپڑھ جاہل ہوتا جارہا ہے
نہ سکول بھیجتے ہو اور نہ ہی مدرسہ
تو اس میں کل قیامت کے دن والدین کی پکڑھ ہوگی یا نہیں ؟؟؟ شدد سے انتظار رہےگا والدین کو تسلی دینی تھی تاکہ بچے کا مستقبل بچ جاۓ
جواب فرماکر مشکور وممنون فرماۓ عین نوازش ہوگی