السلام علیکم !
کچھ دن پہلے انڈیا میں ایک فتوی جاری ہوا تھا کہ بیمہ زندگی انڈیا کے رہنے والے کرا سکتے ہیں، وہاں کے حالات دیکھتے ہوئے یہ جائز ہے ،اس خبر کو میں نے اخبار میں پڑھا تھا ، کیا آپ مجھے قرآن اور حدیث کی روشنی سے بتائیں گے؟۔
ہمارے یہاں مروّجہ زندگی کا بیمہ (لائف انشورنس ) کرانا سود و قمار پر مشتمل ہونے کی بنا پر نا جائز ہے، اس سے احتراز لازم ہے، اور اگر ہندوستان میں مروّج بیمہ زندگی کا طریقہ کار اس سے مختلف ہو تو اس کی پوری تفصیل ای میل کر دیں، تو اس سے متعلق بھی حکم شرعی سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
قال الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (البقرة: 278)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0