السلام علیکم و رحمۃ اللہ !
سوال یہ ہے کہ اگر مکہ کام سے جانا ہو ، اور بندہ حرم کی حدود میں ہو ،نیت صرف کام ہی کی ہو ، عمرہ کی نیت بالکل نہ ہو ، تو اس کا قرآن و سنت کی روشنی میں کیا حکم ہے ؟
جو شخص حدودِ حرم کے اندر موجود ہو ، وہ اگر اپنے کسی کام سے مکہ مکرمہ جانا چاہے تو اس کے ذمہ احرام باندھنا لازم نہیں، بلکہ بغیر احرام باندھے وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو سکتا ہے۔
کما فی الدر المختار : (آفاقي) مسلم بالغ (يريد الحج) ولو نفلا (أو العمرة) فلو لم يرد واحدا منهما لا يجب عليه دم بمجاوزة الميقات اھ (2/579)۔
و فی الہدایۃ : إذا كان يريد الحج أو العمرة فإن دخل البستان لحاجة فله أن يدخل مكة بغير إحرام ووقته البستان وهو وصاحب المنزل سواء " لأن البستان غير واجب التعظيم فلا يلزمه الإحرام بقصده وإذا دخله التحق بأهله وللبستاني أن يدخل مكة بغير إحرام للحاجة فكذلك له اھ (1/172)۔