اگر کسی کے گھر مخنث (ہیجڑا) پیدا ہوجائے تو وہ کیا کرے، گورنمنٹ کے حوالے کردے یا پال پوس کرے؟ اور گھر میں رہے بڑا ہوجائے تو لوگ کہیں گے کیوں شادی نہیں کی؟ کیا جواب دینا پڑے گا؟
اگر کسی کے ہاں مخنث پیدا ہوجائے تو دیگر اولاد کی طرح اس کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھنا والدین کی ذمہ داری ہے، محض لوگوں کی باتوں اور طعن و تشنیع وغیرہ کی وجہ سے اپنی اولاد کو حکومتی اداروں کے حوالے کرنا یا اس کو گھر سے بے دخل کرنا جس سے وہ اپنے کو آزاد لاوارث سمجھ کر ہر طرح کی معاشرتی برائی میں پڑ جائے انتہائی غلط اور شرعاً ناجائز ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما وقت الحضانۃ التی من قبل النساء فالأم والجدتان أحق بالغلام حتی یستغنی عنہن فیأکل وحدہ ویشرب وحدہ ویلبس وحدہ کذا ذکر فی ظاہر الروایۃ، وذکر أبو داود بن رشید عن محمد ویتوضأ وحدہ یرید بہ الاستنجاء أی ویستنجي وحدہ ولم یقدر فی ذلک تقدیرا وذکر الخصاف سبع سنین أو ثمان سنین أو نحو ذلک۔ (الی قولہ) ولأن الغلام إذا استغنی یحتاج إلی التأدیب والتخلق بأخلاق الرجال وتحصیل أنواع الفضائل واکتساب أسباب العلوم والأب علی ذالک أقوم وأقدر مع ما أنہ لو ترک فی یدہا لتخلق باخلاق النساء وتعود بشمائلہن وفیہ ضرار۔ اھـ (ج۴، ص۴۲)۔
وفی الہندیۃ: والأم والجدۃ أحق بالغلام حتی یستغنی وقدر بسبع سنین وقال القدوری حتی یأکل وحدہ ویشرب وحدہ ویستنجی وحدہ وقدرہ أبوبکر الرازی بتسع سنین والفتوی علی الأول (إلی قولہ) ویمسکہ ہؤلاء إن کان غلاما إلی أن یدرک فبعد ذلک ینظر إن کان قد اجتمع رأیہ وہو مأمون علی نفسہ یخلی سبیلہ فیذہب حیث شاء وإن کان غیر مأمون علی نفسہ فالأب یضمہ إلی نفسہ ویولیہ ولا نفقۃ علیہ إلا إذا تطوع کذا فی شرح الطحاوی۔ اھـ (ج۱، ص۵۴۲)۔ واللہ اعلم بالصواب
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0