میرے ایک دوست نے فون پر ایک لڑکی سے ایجاب و قبول کیا، یعنی لڑکی نے کہا ”مجھے تم قبول ہو، قبول ہو ،قبول ہو“ میرے دوست نے بھی کہا ”تم مجھے قبول ہو، قبول ہو، قبول ہو“ اور کلمہ بھی پڑھا، اس طرح یہ نکاح ہو گیا؟ اور اگر ہو گیا تو اب علیحد گی کیسے ہو گی؟ میرا دوست پہلے سےشادی شدی بھی ہے اور اس نے اپنے بیوی کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا، براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ صحتِ نکاح کیلئے دو گواہوں کی موجودگی میں مجلسِ نکاح میں لڑکی اور لڑکے یا ان کے وکیلوں کا باضابطہ ایجاب و قبول کرنا لازم ہے اس لئے مذکور لڑکا اور لڑکی کا فون پر ”قبول ہے، قبول ہے“ کہنے سے نکاح منعقد نہیں ہو ا، اس کو نکاح سمجھ کر دونوں کا میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنا یا لڑ کے کالڑ کی پر بیوی ہونے کا دعوی کر نا غلط ہے، لڑکی، لڑکا اب بھی اپنی مرضی سے جہاں چاہیں نکاح کر سکتے ہیں۔
كما في تبيين الحقائق: قال رحمه الله (عند حرين أو حر وحرتين عاقلين بالغين مسلمين، ولو فاسقين أو محدودين أو أعميين أو ابني العاقدين) يعني ينعقد بتلك الألفاظ التي تقدم ذكرها إذا وجدت عند رجلين حرين أو رجل حر وامرأتين حرتين يعني به حضور الشهود ولا ينعقد إلا بحضورهم۔اھ (2/98)
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0