ایک دو گواہ اور قاضی دونوں اس جگہ پر موجود نہ ہوں یعنی وہ دوسرے شہر میں ہوں جب کہ لڑکا لڑکی ایک ساتھ کسی اور شہر میں موجود ہوں تو کیا فون پہ نکاح ہو جاے گا یا ایسا نکاح جائز نہیں ہوگا جبکہ فون پر صرف اواز ہی سنی ہو گواہ اور قاضی نے۔
واضح ہو کہ نکاح کرتے وقت لڑکا، لڑکی اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا اوران گواہوں کےسامنے اس طرح ایجاب وقبول کرنا کہ گواہ بھی اسے سن لیں صحت نکاح کے لیے شرط ہے، اس کے بغیرشرعا نکاح منعقد نہیں ہوتا، اس لیے سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار کہ مطابق جب گواہ مجلس نکاح میں موجود نہیں تھے، تو محض فون پر ایجاب وقبول سننے سے ان دونوں کا نکاح شرعا منعقد نہیں ہوا، بلکہ یہ دونوں بدستور اجنبی اور ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں، اس لیے اس نکاح کو بنیاد بناکر ایک دوسرے کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق یا بے تکلفی اختیار کرنا شرعاجائز نہیں اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر المختار:
ومن شرائط الایجاب والقبول اتحاد المجلس لو حاضرین، وان طال۔ اھـ (ج۳، ص۱۴)
وفی التنویر مع شرح:
(و) شرط (حضور شاہدین (حرین) او حر وحرتین (مکلفین سامعین قولہما معا) الخ (ج۳، ص۳۱)
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0