السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اُمید ہے آپ خیریت سے ہوں گے، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ 1۔ نکاح درست ہو گا اگر آڈیو کال پر دولہا کی پیشکش اور دلہن نے ایک ہی جگہ (جیسے ایک ہی کمرے میں) قبول کیا اور وہاں دو مرد گواہ ہوں جو انہیں واٹس ایپ کے ذریعے آڈیو کال پر لائیو سن رہے ہوں۔ 2. نکاح اسی طریقے سے کیا گیا لیکن ویڈیو کال پر؟ 3. کیا یہ لازم ہے کہ گواہ دلہن کو پہچانیں، اس کا چہرہ دیکھیں یا جانیں کہ وہ کس کی بیٹی ہے؟اگرچہ گواہ دولہے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں آپ کے اچھے جواب کا انتظار کروں گا۔ جزاک اللہ
واضح ہو کہ نکاح کے صحت ودرستگی کے لئے لڑکا لڑکی یا ان کی طرف سے مقررکردہ وکیل اور شرعی گواہان کا مجلس نکاح میں موجود ہونااور ایجاب وقبول سننا شرعاً ضروری ہے، چنانچہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور نکاح میں گواہان عقد نکاح کی مجلس میں موجود نہیں تھے، بلکہ فون پر ایجاب وقبول سن رہے تھے، اس لئے صحت نکاح کی شرائط موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا، بلکہ مذکور لڑکا ولڑکی بدستور ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں، اس نکاح کی بنیاد پر ان دونوں کا باہم بے تکلفی اختیار کرنا یا کسی بھی قسم کا تعلق قائم کرنا ناجائز وحرام ہے، جس سے دونوں کو احتراز لازم ہے، جبکہ گواہان کے لئے دلہن کا چہرہ دیکھنا ضروری نہیں بلکہ والد اور دادا کے نام کے ساتھ تعارف کرا کراس کی پہچان کرانا کافی ہے۔
کما فی الدرالمختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال الخ ( ج 3 ص 14 کتاب النکاح ط سعید) ۔
وفیہ ایضاً: (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)الخ ( ج3 ص 22 کتاب النکاح ط سعید)۔
وفی الھندیہ: يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانيةالخ ( ج 1س 194 الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وغیرھا ط ماجدیہ)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: وشرط حضور شاهدين) أي يشهدان على العقد،(الی قولہ) أشار بقوله فيما مر ولا المنكوحة مجهولة إلى ما ذكره في البحر هنا بقوله: ولا بد من تمييز المنكوحة عند الشاهدين لتنتفي الجهالة، فإن كانت حاضرة منتقبة كفى الإشارة إليها والاحتياط كشف وجهها.(الی قولہ) والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل وأقره في الفتح والبحر. وعلى قول الخصاف يكفي مطلقا، ولا يخفى أنه إذا كان الشهود كثيرين لا يلزم معرفة الكل بل إذا ذكر اسمها وعرفها اثنان منهم كفى والظاهر أن المراد بالمعرفة أن يعرفها أن المعقود عليها هي فلانة بنت فلان الفلاني لا معرفة شخصها، وإن ذكر الاسم غير شرط، بل المراد الاسم أو ما يعينها مما يقوم مقامه لما في البحر: لو زوجه بنته ولم يسمها وله بنتان لم يصح للجهالة بخلاف ما إذا كانت له بنت واحدة إلا إذا سماها بغير اسمها ولم يشر إليها فإنه لا يصح كما في التنجيس. اهـ.الخ (ج2 ص21 کتاب النکاح ط سعید)۔
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0