میر اپہلا سوال یہ ہے کہ (efu) انشورنس کمپنی میں کام کرنا حلال ہے یا حرام ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ تکافل لائف انشورنس بھی حلال ہے یا حرام ؟
واضح ہو کہ مروجہ انشورنس کمپنیوں کے طریقہ کار میں عموماًر با، قمار اور غرر پایا جاتا ہے ،لہذا مذکور کمپنی کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی یا دیگر ناجائز معاملات سے ہو تو ایسی ملازمت اختیار کرنا ناجائز اور حرام ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے ، البتہ مذکور کمپنی کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہ ِراست سودی یاد دیگر نا جائز معاملات سے نہ ہو تو ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ناجائز اور حرام نہیں، البتہ بہتر یہی ہے کہ ایسی ملازمت بھی اختیار نہ کی جائے۔ جبکہ جن تکافل کمپنیوں کے معاملات مستند علما کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی زیر نگرانی انجام پاتے ہوں تو ان سے تکافل کی کوئی پالیسی لینے یا اس میں ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔
كما قال الله تعالى: يا ايها الذين آمنوا اتقوا الله وذرو ما بقى من الزبا ان كنتم مؤمنين ( البقرة ۲۷۸)-
و أيضاً قال تعالیٰ : يا ايها الذين آمنو انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون ( المائدة: ۹۰)-
وأيضاً قال تعالیٰ : وتعاونوا على البر والتقوى (المائدة: ۲) -
وفي مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول ﷺ : الربوا سبعون جزءاً أيسرها أن ينكح الرجل أمه اھ (۲ / ۲۴۲) -
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0