السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکا اور لڑکی دونوں کی عمر سترہ سال کے قریب ہے اور دونوں اس طرح نکاح کرتے ہیں کہ لڑکا اپنے ساتھ دو گواہوں کو بٹھاتا ہے اور ان کی موجودگی میں موبائل کال پر ایجاب و قبول کرتا ہے، اور اسی مجلس میں لڑکی کال پر لڑکے سے کہتی ہے کہ میں تمہیں اپنا وکیل بناتی ہوں میرا نکاح اپنے ساتھ کر لو تو پھر لڑکا دوبارہ ایجاب و قبول کرتا ہے تو کیا یہ نکاح درست ہے یا نہیں؟ دلائل کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں، والسلام۔
والدین یا سر پر ستوں کی اجازت و رضامندی کے بغیر لڑکے، لڑکی کا اپنے طور پر نکاح کرنا عرفاً بے شرمی پر مبنی عمل ہے، اور معزز خاندانوں میں یہ معیوب سمجھا جاتا ہے، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے ، تاہم اگر کسی لڑکے، لڑکی نے اس طور پر نکاح کر لیا ہو کہ لڑکی نے فون پر اپنے نکاح کا و کیل لڑکے کو بنادیا ہو، اور پھر لڑکے نے دو گواہان کی موجودگی میں لڑ کی کا نکاح اپنے ساتھ کر دیا ہو ، اور دونوں لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے ہم پلہ (کفؤ ) بھی ہوں، تو شرعاً ایسا نکاح منعقد ہو جاتا ہے، ورنہ نہیں۔
كما في رد المحتار: (قوله: كزوجت نفسي إلخ) أشار إلى عدم الفرق بين أن يكون الموجب أصيلا أو وليا أو وكيلا۔اھ (3/9)
وفي الفقه الاسلامي وأدلته: الأصل في العقد تعدد العاقدين لكن اجاز جمهور الحنفية غير زفر انعقاد الزواج احياناً بعاقد واحد (إلى قوله) الثانية: أن يكون العاقد اصيلاً عن نفسه وكيلاً عن الطرف الآخر كما لو وكلته امرأة أن يزوجها من نفسه فقال امام الشهود قد وكلتني فلانة بنت فلان ان ازوجها من نفسى فاشهدوا اني تزوجتها۔اھ (7/225)
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0