اگر بیوی حالتِ حیض میں ہو اور شوہر کا ہمبستری کو دل کرے تو کیا بیوی کے پچھلے حصے کو دخول کے بغیر استعمال کر سکتا ہے، یعنی شوہر کی شرم گاہ بیوی کے پچھلے حصے کے اندر داخل نہ ہو؟
واضح ہو کہ شوہر کے لیے حالتِ حیض میں بیوی کے ناف سے لیکر گھنٹوں تک کے حصہ سے بلا کسی حائل فائدہ اُٹھانا جائز نہیں، لہٰذا سائل کے لیے ایسی حالت میں بیوی کے پچھلے حصے میں دخول کے بغیر بھی (بغیر کسی حائل کے)فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں، البتہ ناف سے گھنٹوں تک کے حصہ کے علاوہ باقی جسم سے مستفید ہونے میں کوئی حرج نہیں۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُن﴾(البقرة: 222)
وفی مشكاة المصابيح: وعن معاذ بن جبل قال: قلت: يا رسول الله ما تحل لي من امرأتي وهي حائض؟ قال: «ما فوق الإزار والتعفف عن ذلك أفضل» اھ (1/ 173)
وفی حاشية ابن عابدين: ويمنع الحيض قربان زوجها ما تحت إزارها كما في البحر (قوله يعني ما بين سرة وركبة) فيجوز الاستمتاع بالسرة وما فوقها والركبة وما تحتها ولو بلا حائل اھ (1/ 292)
وفی الفتاوى الهندية: (ومنها) حرمة الجماع. هكذا في النهاية والكفاية وله أن يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند أبي حنيفة وأبي يوسف. هكذا في السراج الوهاج اھ (1/ 39)