ہمارے ایک دوست نے ابھی 2019 میں حج کیا ہے،جو کہ جدہ کا رہائشی ہے۔ اور حج بھی چوری چھپکے کیا ہے، لیکن اس نے حج کا احرام مسجد عائشہ سے باندھا تھا ۔ اب اس کو کچھ لوگ بار بار کہہ رہے ہیں آپ نے جو مسجد عائشہ سے احرام باندھا ہے اس کی وجہ سے آپ پر ایک دم لازم پڑھ گیا۔ کیا اس پر حقیقت میں دم پڑ گیا ہے جو کہ میرے علم میں نہیں پڑا؟
مسجد عائشہ چونکہ حدود حرام سے باہر ہے ، اس لیے سائل کے دوست پر مذکور مقام سے احرام باندھ کر حج ادا کرنے کی وجہ سے کوئی دم لازم نہیں، تاہم خلافِ ضابطہ چوری چھپے حج کرنا چونکہ قانون کی خلاف ورزی ہے ، اس لیے اس سے احتر از لازم ہے۔
کما فی الدر : (وحل لأهل داخلها) يعني لكل من وجد في داخل المواقيت (دخول مكة غير محرم) ما لم يرد نسكا للحرج كما لو جاوزها حطابو مكة فهذا (ميقاته الحل) الذي بين المواقيت والحرم اھ
و فی الرد تحت : (قوله والتنعيم أفضله) هو موضع قريب من مكة عند مسجد عائشة، وهو أقرب موضع من الحل ط أي الإحرام منه للعمرة أفضل من الإحرام لها من الجعرانة، وغيرها من الحل عندنا وإن كان - صلى الله عليه وسلم - أحرم منها لأمره - عليه الصلاة والسلام - عبد الرحمن بأن يذهب بأخته عائشة إلى التنعيم لتحرم منه والدليل القولي مقدم عندنا على الفعلي وعند الشافعي بالعكس (قوله ونظم حدود الحرم ابن الملقن) هو من علماء الشافعية اھ (2/479)۔
و فی الدر : (و) يجب (على من دخل مكة بلا إحرام) لكل مرة (حجة أو عمرة) فلو عاد فأحرم بنسك أجزأه عن آخر دخوله، وتمامه في الفتح (وصح منه) أي أجزأه عما لزمه بالدخول (لو أحرم عما عليه) من حجة الإسلام اھ ( 2/583)۔