السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! محترم علماء کرام میرے چند سوالات ہیں، میرے نکاح کےتقریباً گیارہ ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔
1۔کیا رخصتی سے قبل منکوحہ سے رجوع کرنا شرعاً جائز ہے ؟
2۔ کیا رخصتی سے قبل منکوحہ سے ہمبستری کا عمل انجام دینا جائز عمل ہے ؟
3۔کیا منکوحہ کے ساتھ اورل سیکس (Oral Sex) یعنی منکوحہ کے نازک اعضاء کو چومنا چاٹنا شرعاً منع ہے ؟ برائے کرم رہنمائی اور رابطے کیلئے صرف اُوپر دیے گئے ای میل کو استعمال کیا جائے۔
(1۔2) نکاح ہو جانے کے بعد اپنی منکوحہ سے رجوع کرنا، ہمبستری کرنا اگر چہ جائز ہے، مگر رخصتی سے قبل اگر حمل ٹھہر گیا تو زنا کی تہمت کا اندیشہ ہے، اسی طرح اس طریقۂ کار کو شریف خاندانوں میں نا پسندیدہ سمجھا جاتا ہے، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے، تاہم اگر شہوت کا غلبہ ہو اور گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو جلد رخصتی کروانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
(3)جبکہ منکوحہ کے ساتھ اورل سیکس (یعنی اس کے نازک اعضاء کو چومنا چاٹنا) نا پسندیدہ اور حیوانیت پر مبنی عمل ہے، جس سےاجتناب لازم ہے۔
كما فى الهندية: (وأما أحكامه) فحل استمتاع كل منهما بالآخر على الوجه المأذون فيه شرعا، كذا في فتح القدير۔اھ (1/270)
كما في الهندية: في النوازل إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل یكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة۔اھ (5/372)