اگر بیوی خودجاب کرتی ہو تو کیا تب بھی شوہر پر اس کا نان و نفقہ لازم ہے ؟
واضح ہو کہ عورت کے لئے شوہر کی اجازت کے بغیر ملازمت کے لئے گھر سے نکلنا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر شوہر کی طرف سے ملازمت کی اجازت ہو اور آنے جانے اور ملازمت کے دوران کسی قسم کے فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو اور غیر مردوں کے ساتھ اختلاط بھی نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں پردۂ شرعی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے، لیکن اس صورت میں نان و نفقہ شوہر ہی پر لازم ہو گا، البتہ اگر بیوی اپنے اخراجات خود برداشت کر ے تو اس میں بھی کوئی قباحت نہیں، اور اگر بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر ملازمت کے لئے جاتی ہو تواس صورت میں شوہر پر اس کا نان ونفقہ لازم نہیں ہوگا، اور وہ گناہ گار بھی ہو گی۔
کما في الفقه الإسلامي وأدلته: إذا عملت الزوجة نهاراً أو ليلاً خارج المنزل كالطبيبة والمعلمة والمحامية والممرضة والصانعة، فالمقرر في القانونين المصري والسوري أنه إذا رضي الزوج بخروجها ولم يمنعها من العمل، وجبت لها النفقة؛ لأن احتباس الزوجة حق للزوج، فله أن يتنازل عنه. وإن لم يرض بعملها، ونهاها عن العمل، فخرجت من أجله، سقط حقها في النفقة؛ لأن الاحتباس في هذه الحالة ناقص غير كامل، فلو سلمت المرأة نفسها بالليل دون النهار أو عكسه؛ فلا نفقة لنقص التسليم۔اھ (10/ 7378)