میرا ایک سوال ہے کہ اگر لڑکی روزہ رکھنا چاہتی ہو، لیکن اس کے والدین اسے منع کرتے ہوں کہ گھر میں کام کاج ہے ،تم روزہ مت رکھو تو وہ کیا کرے ؟ اگر وہ روزہ رکھتی ہے، تو سارا کام اس کی والدہ کو کرنا پڑیگا؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرمادیں ؟
مذکور لڑکی اگر بالغ ہے اور وہ فرض روزے رکھنا چاہتی ہو اور اس کے والدین اس کو منع کرتے ہوں تو اس لڑکی پر والدین کی اطاعت لازم نہیں، بلکہ وہ روزہ رکھے اور ممکنہ طور پر والدین کی بھی خدمت کرتی رہے لیکن اگر مذکور لڑکی نفل روزے رکھنا چاہتی ہو اور اس کے روزے رکھنے کی وجہ سے والدین کی خدمت میں دشواری ہوتی ہو تو نفل روزوں کے بجائے والدین کی خدمت کو مقدم رکھنا چاہیے۔
كما قال الله تعالى : {وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا } [الإسراء: 23]۔
و في مشكاة المصابيح: وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق» . رواه في شرح السنة اھ (2/ 1092)۔والله اعلم بالصواب
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0