معلوم یہ کرنا ہے کہ بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنا ماہوری کے بعد غسل سے پہلے کیسا ہے؟
ماہواری کی عادت اگر دس دن سے کم ہو تو اس صورت میں ماہواری رُکنے کے بعد نماز کا وقت گزرنے سے پہلے جماع کرنا جائز نہیں ، جبکہ دس یوم پورے ہونے پر غسل سے قبل بھی ہمبستری جائز ہے ،اگرچہ بہتر یہی ہے کہ غسل کے بعد کی جائے۔
قال اللہ تعالٰی فی القرآن الکریم: ﴿ویسئلونک عن المحیض قل ھو اذیً فاعتزلوا النساء فی المحیض ولا تقربوھن حتی یطھرن فاذا تطھرن فاتوھن من حیث امرکم اللہ ان اللہ یحب المتطھرین﴾ (سورة البقرة: آیت ۲۲۲)
وفی تفسیر المظھری: واحتج الجمھور بحدیث معاذ بن جبل قال قلت یا رسول اللہ ما یحل لی من امرأتی وھی حائض قال ما فوق الازار والتعفف عن ذالک افضل الخ (ج۱، ص۲۷۹)
وفی الھندیة: اذا مضی اکثر مدة الحیض وھو العشر یحل وطئوھا قبل الغسل مبتدأة کانت أو معتادة ویستحب لہ أن لا یطأھا حتی تغتسل ھکذا فی المحیط اھ (ج۱، ص۳۹)
وفیها ایضًا: واذا انقطع دم الحیض لأقل من عشرة أیام لم یجز وطؤھا حتی تغتسل أو یمضی علیھا آخر وقت الصلاة قلخ(ج۱، ص۳۹)
وفیها ایضًا: لو انقطع دمھا دون عادتھا یکرہ قربانھا وان اغتسلت حتی یمضی عادتھا وعلیھا ان تصلی وتصوم للاحتیاط ھکذا فی التبیین الخ (ج۱، ص۳۹)
وفی رد المحتار: وأما لو کان الانقطاع لدون العشرة وتمام عادتھا فلا تثبت ھذہ الاحکام مالم تغتسل، لأن زمن الغسل حینئذ من الحیض، فلو وطئھا زوجھا قبل الغسل کان واطئا فی زمن الحیض، وکذا الا تنقضی عدتھا مالم تغتسل، وأما فی حق بقیة الاحکام فلا یشرط الغسل، ففی مثل الصلاة أو الصوم یجب علیھا وان لم تغسل لکن بشرط ادراک زمن التحریمة الخ (ج۱، ص۲۹۶ – ۲۹۷)