مفتی صاحب ! مجھے کار فائنانس کروانی ہے، جاننا چاہتا ہوں جائز ہے بینک سے ؟اور اس کے ساتھ انشورنس بھی ہوتا ہے، کیا یہ جائز ہے یا نا جائز ؟
کسی سودی بینک کے ذریعے کار فائنانسنگ میں سوال میں ذکر کردہ انشورنس کروانے کی فقہی خرابی کے علاوہ دیگر شرعی قباحتیں بھی ہیں ، جن میں سے چند خرابیاں ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:
۱: ایک ہی عقد کے اندر لیز اور بیع کے دو معاملے ہوتے ہیں ،جو’’ صفقتان فی صفقہ‘‘ میں داخل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں۔
۲:لیز پر دی گئی چیز ( گاڑی وغیرہ) کلائنٹ کے حوالے کرنے سے پہلے ہی اس کا کرایہ لگنا شروع ہو جاتا ہے ،جو کہ شرعاً جائز نہیں۔
۳: لیز پر دی گئی چیز سے متعلق تمام مالکانہ ذمہ داریاں کلائنٹ برداشت کرتا ہے، جو کہ شرعاً نا جائز ہے، لہذا سودی بینک کے بجائے مستند مفتیان ِکرا م پر مشتمل شریعہ بورڈ کی زیر نگرانی معاملات سر انجام دینے والے کسی اسلامی مالیاتی ادارے (بینک وغیرہ) سے فائنانسنگ کا معاملہ کیا جائے ۔
ففي تفسير روح المعاني: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ بيان لبعض المحرمات المتعلقة بالأموال (إلی قوله) والمراد بالباطل ما يخالف الشرع كالربا والقمار اھ (3/ 16)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0