میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کو دو سال ہو گئے ہیں، میرا شوہر مردانہ کمزوری کا شکار ہے، جس کی وجہ سے میری تسکین نہیں ہو رہی ہیں، مطلب ان دو سال میں میرامباشرت سے پورا اطمینان نہیں ہو رہامجھے مشورہ دیں میں کیا کروں، میں ذہنی طور پر کشمکش میں ہوں۔
سائلہ کا بیان اگر درست اور حقیقت پر مبنی ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیانی یا مبالغہ آمیزی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کا شوہر واقعۃً مردانہ کمزوری کا شکار ہو، جس کی وجہ سے وہ حقوق زوجیت ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ اپنا علاج کروائے جب تک علاج چلتا ر ہے سائلہ صبر کے ساتھ اپنے شوہر کے ساتھ رہے، اگر علاج سے فائدہ ہو جائے تو بہتر ورنہ سائلہ برداری کے بڑوں کے ذریعہ شوہر سے طلاق یا خلع لیکر دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ومن محاسنه التخلص به من المكاره) أي الدينية والدنيوية بحر: أي كأن عجز عن إقامة حقوق الزوجة، أو كان لا يشتهيها. (3/ 229)
و في الشامية أيضا: (قوله ويسقط حقها بمرة) قال في الفتح: واعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له، صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة، لكن لا يدخل تحت القضاء والإلزام إلا الوطأة الأولى ولم يقدروا فيه مدة اھ (3/ 202) والله اعلم بالصواب