آج سے کچھ سال قبل مجھے معلوم نہیں تھاکہ سحری کا تعلق اذان سے نہیں،بلکہ صبحِ صادق سے ہوتا ہے،تو لاعلمی کے باعث رمضان کے قضا روزے پورے کرتے ہوئے میں اذان کی آواز آنے تک سحری کھایا کرتی تھی،بعد میں معلوم ہواکہ غیر رمضان میں تو اذان صبحِ صادق کے کافی دیر بعد ہوتی ہے،کیا اب مجھ پر وہ سب روزے رکھنے فرض ہیں؟ اور انکی صحیح تعداد بھی نہیں معلوم تو کیا کیا جائے ؟ جزاک اللہ خیرا !
سائلہ نے رمضان المبارک کے جن قضا روزوں میں صبحِ صادق کے بعد بھی کچھ کھایا پیا ہے،ان سب روزوں کی قضا اس کے ذمہ لازم ہے،اب سائلہ کو چاہیئے کہ ان کا تخمینہ لگا کر ان سب روزوں کی قضا کرے۔
كما في الفتاوى الهندية: تسحر على ظن أن الفجر لم يطلع وهو طالع أو أفطر على ظن أن الشمس قد غربت ولم تغرب قضاه ولا كفارة عليه اھ (1/194) ۔
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0