پہلی شادی کے بعد دوسری کرنے والے شخص کو نکاح کے بعد جب ملے تو کیا نصیحت کرنی چاہیے اور کونسی دعا کرنی چاہیے، مسنون طریقہ کیا ہے؟ میرا مطلب ہے کہ ایک لڑکا ہے، اس نے ایک شادی کی ہے، لیکن پہلی لڑکی کو طلاق نہیں ہوئی ہے، یعنی دو بیویوں کا خاوند ہو گا، ابھی دوسری شادی کرنے والا ہے، پہلی ملاقات میں خاوند اپنی بیوی کو کیا نصیحت کرے گا اور کونسی دعا پڑھنی ہے، یعنی مسنون دعا،مکمل مسنون طریقہ اگر بیان کیا جائے تو بہتر ہو گا۔
شادی کی پہلی رات جب شوہر بیوی کے پاس جائے تو کلام و گفتگو سے پہلے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ “ کہے اور بیوی کی پیشانی کے بالوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھے:
”أللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ“یہ بھی آداب میں داخل ہے کہ اولاً وضو کرے، پھر دو رکعت”صلوٰۃ الحاجۃ“ پڑھ کر خیر و برکت، توافق و محبت اور پاکیزگی کے ساتھ دوام و بقا نیز صالح اولاد کے حصول کی دعا کرے، یہ دعا پڑھنا زیادہ بہتر ہے :
”أللّٰهُمَّ بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي، وَبَارِكْ لَهُمْ فِيَّ، أللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي مِنْهُمْ، وَارْزُقْهُمْ مِنِّي، أللّٰهُمَّ اجْمَعْ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ إِلَى خَيْرٍ، وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى خَيْرٍ“
اس کے بعد بیوی کے پاس بیٹھ کر اس کو مانوس کرنے کیلئے پیار بھرے انداز میں باتیں شروع کرے، باتوں باتوں میں یہ بات بھی واضح کرے کہ شریعت کے مطابق زندگی گزارنے میں ہم دونوں کی کامیابی ہے، جبکہ خلافِ شریعت طریقوں کی پیروی سراسر نقصان دہ اور پریشانی کا باعث ہے، اس کے بعد ہمبستری کا ارادہ کرے تو بیوی کو پیار و محبت اور بوس و کنار کے ساتھ مانوس کر لیا جائے، اور ایسی صورت اختیار کی جائے جس سے وہ بھی آمادہ جماع ہو جائے، پھر یہ دعا پڑھے:
”بِسْمِ اللّٰهِ أللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا“
جماع میں حتی الامکان ستر اور پردہ ہونا چاہیے، بالکل ننگا ہونا اچھا نہیں، بلکہ بقدرِ ضرورت ستر کھولنا چاہیے اور باقی بدن پر کپڑا وغیرہ ڈال لیا جائے، جماع کے موقع پر قبلہ رخ نہ ہونا چاہیے کہ اس میں احترامِ قبلہ کا لحاظ ہے۔
جماع کا ایک طریقہ جو اشارۃً قرآنِ کریم میں مذکور ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
”فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا“ یعنی ”جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو اسے ہلکا سا حمل رہ گیا“۔
جماع میں عورت پیٹھ کے بل (چت) لیٹے، نیچے رہے اور اپنی ٹانگوں کو پھیلائے ہوئے ہو اور مرد اس کے اوپر اسطرح لیٹے کہ دونوں کے عضوِ خاص ایک دوسرے کے مقابل ہو جائیں۔
اور دوسرا طریقہ جس کے متعلق حدیثِ پاک میں ارشاد ہے:
”إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهدَهَا “ یعنی ”مرد جب اپنی بیوی کی شرمگاہ کے چاروں اطراف کے درمیان بیٹھ جائے، پھر اس کو مشقت میں ڈالے “۔
”شعب اربع“ سے مراد عورت کے ”دوسرین“ اور ”دو ران“ ہیں، اور اس کے درمیان بیٹھنا اسطرح ہو گا کہ عورت لیٹی ہو اور مرد اس کی ٹانگوں کو خم کر کے اسطرح اوپر کرے کہ اس کی رانیں پیٹ سے الگ رہیں، اب شوہر دو زانوں ہو کر مجامعت کرے، اس دوران میاں بیوی کا ایک دوسرے کے بدن کو چھونا اور چومنا بلا شبہ درست ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، پھر جب ہمبستری کر کے فارغ ہو جائے تو یہ دعا پڑھے :
”أللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْ لِلشَّيْطٰنِ فِيْمَا رَزَقْتَنَا نَصِيْبًا“ اس کے بعد استنجا اور وضو کر کے پھر سونا چاہے، اس سے پاکیزگی حاصل ہو گی اور صبح ہوتے ہی نمازِ فجر سے پہلےغسل کر کے مرد مسجد کی طرف نماز کیلئے جائے اور عورت گھر میں نماز ادا کرے۔
مزید تفصیل کیلئے مولانا محمد ابراہیم پالنپوری کی کتاب”تحفۃ النکاح“اور”آدابِ مباشرت“ جیسی کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔