السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ جماع کے دوران اگر گمان ہو کہ میری بیوی کا دودھ میرے منہ میں چلا گیا ہے اور فوراً میں تھوک کر کلی کرلوں تو نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑے گا ؟ اگر پڑے گا تو کس طرح کفارہ ہوگا ؟
شوہر کے لیے بیوی کا دودھ پینا شرعاً نا جائز و حرام ہے ،جس سے احتراز واجب ہے۔ تاہم اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔
كما في الدر المختار: (ولم يبح الإرضاع بعد موته) لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية اھ (3/ 211)
و فيه ايضاً : مص رجل ثدي زوجته لم تحرم اھ (3/ 225)