براہ کرم چائنیز کمپنی شنیل (XANAIL) کے متعلق مفتی تقی عثمانی صاحب مد ظلہ العالی کا فتوی ارسال کریں ممنون ہوں گا ۔
محترم اس سلسلہ میں دارالعلوم کراچی کا ایک فتوی بندہ کے پاس موجود ہے ۔ جسے مکمل طور پر نقل کر دیتا ہوں وہ یہ کہ: ’’سوال کے ساتھ ارسال کردہ ’’شینل کمپنی‘‘ کے طریقہ کاروبار پر مبنی کتاب کا مطالعہ کیا گیا، اس سے قبل بھی اس نوعیت کی ا سکیمیں جاری کی گئی ہیں جن سے متعلق ہمارے ہاں سے جوابات بھی جاری کئے گئے ہیں، مثلاً گولڈن کی انٹرنیشنل‘‘ اور بزناس ڈاٹ کام اس طرح کی اسکیمیں جاری کرنے والی کمپنیاں اس سے قبل لوگوں سے پیسہ جمع کرنے کے لئے ایک فارم استعمال کرتی تھیں اور کسی قسم کی پروڈکٹ درمیان نہیں ہوتی تھی، جیسے ڈالر جیٹ اسکیم کی مثال ہے۔ اس کے بعد ان کمپنیوں نے کچھ خاص پروڈکٹ کی خرید وفروخت کے ساتھ یہ اسکیم جاری کی اور اس طرح سے کمپنی کے لئے مزید ممبر بنانے پر خاص طریقہ پر کمیشن دیا جاتا ہے، واضح رہے کہ ان کی پروڈکٹ عام طو پر مارکیٹ میں دستیاب بھی نہیں ہوتی ، اور ہر شخص ان کو خرید بھی نہیں سکتا ہے۔ بلکہ کسی نہ کسی ممبر کے واسطے سے وہ مذکورہ پروڈکٹ خریدتا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصود ان اشیاء کی خرید و فروخت نہیں بلکہ ممبر سازی کے ذریعہ رقوم حاصل کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منسلکہ بڑے سائز کے مطبوع عمدہ کتابچہ کے پندرہ صفحات میں ساری تفصیل ممبر سازی کی درج کی گئی ہے۔ فروخت کی جانے والی چیز کا کوئی تعارف باتفصیل درج نہیں ۔ جس سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ کمپنی کا مقصود اشیاء کی فروخت نہیں بلکہ ممبرسازی کی اسکیم چلانا ہے۔ لہذا مذکورہ اسکیم میں شامل ہونا سود اور جوئے کو ترویج دینا ہے ۔ اس لئے اس اسکیم میں شامل ہونا جائز نہیں (از تبویب) چنانچہ یہ مذکورہ بالا دار العلوم کے فتوی کا مضمون ہے۔ اس لئے اس فتوی اور ہمارے یہاں جامعہ بنوریہ کے فتویٰ کے مطابق اس اسکیم میں شامل ہونا یا اس کا رکن بننے سے احتراز لازم ہے۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0