السلام علیکم ! مجھے معلوم کرنا ہے کہ اگر بیوی کے حیض کی لاعلمی کی وجہ سے ہمبستری ہوجائے اور دونوں میاں بیوی کو بعد میں اندازہ ہو تو ایسی صورت میں کیا احکامات ہیں؟جواب کا منتظر ۔جزاک اللہ خیر۔
دونوں کی لاعلمی اور نادانستہ طور پر دورانِ حیض مباشرت کرنے سے اگرچہ گناہ نہیں ، مگر ایسی صورت میں بھی میاں بیوی کو چاہیئے کہ بصدقِ دل توبہ واستغفار کریں ، جبکہ مستحب یہ ہے کہ ایک دینار (ساڑھے چار ماشہ سونا ) یا نصفِ دینار کے برابر صدقہ بھی کریں۔
کما فی الدر المختار : ثم هو كبيرة لو عامدا مختارا عالما بالحرمة لا جاهلا أو مكرها أو ناسيا فتلزمه التوبة؛ ويندب تصدقه بدينار أو نصفه الخ
و فی رد المحتار : تحت (قوله لا جاهلا إلخ) هو على سبيل اللف والنشر المشوش. والظاهر أن الجهل إنما ينفي كونه كبيرة لا أصل الحرمة إذ لا عذر بالجهل بالأحكام في دار الإسلام، أفاده اھ (1/297)۔
و فی الفتاوی الھندیة : فإن جامعها وهو عالم بالتحريم فليس عليه إلا التوبة والاستغفار ويستحب أن يتصدق بدينار أو نصف دينار. كذا في محيط السرخسي اھ (1/39)۔