میں اسٹیٹ لائف میں ملازمت کرنا چاہ رہا ہوں، کیا بیمہ کروانا صحیح ہے؟ اور کیا صرف چیزوں کا بیمہ کروایا جا سکتا ہے؟
مروّجہ انشورنس پالیسیاں چاہے ان کا تعلق زندگی سے ہو ،یا دیگر اشیاء سے، سود، قمار (جوا) اور غرر پر مبنی ہونے کہ وجہ سے شرعاً ناجائز ہیں، اس لئے ان سے احتراز لازم ہے، جبکہ انشورنس کمپنی میں ملازمت کا تعلق اگر براہِ راست ناجائز امور مثلاً سود اور قمار وغیرہ سے ہو تو اس کا اختیار کرنا جائز نہیں، ورنہ بصورتِ دیگر اُسے اختیار کرنے کی گنجائش ہے، اگرچہ احتراز اس سے بھی بہتر ہے۔
قال الله تعالیٰ: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدة: 2)۔
وفي أحكام القرآن للجصاص: باب تحريم الميسر قال الله تعالى: ﴿يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير﴾ قال أبو بكر : دلالته على تحريم الميسر (إلی قوله) ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار اھ (2/ 328)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0