میری بچی پرائیویٹ سکول میں پڑھتی ہے، سکول کی طرف سے جو فیس چالان ملتا ہے، اس پر لکھا ہوتا ہے کہ اگر 5تاریخ تک جمع نہیں کی تو ہر دن کے حساب سے 20 روپے جرمانہ لگے گا، اب اس مہینے میں نے مقررہ تاریخ تک فیس جمع نہیں کی اور سکول والے مجھ سے جرمانہ مانگ رہے ہیں، میں نے کہا کہ میں نہیں دیتا،یہ سود کے زمرے میں آتا ہے،آپ رہنمائی فرمائیں کہ یہ جرمانہ دینا ٹھیک ہے؟
مالی جرمانہ لینا اگرچہ سود کے زمرے میں نہیں آتا،مگر اس کا لینا عند الحنفیہ جائز نہیں، لہٰذا سکول والوں کو اس سے احتراز لازم ہے، البتہ سکول والے یہ کرسکتے ہیں کہ غیر حاضری کرنے والے طالبِ علم سے آئندہ مہینہ کی فیس کچھ مخصوص مقدار میں زیادہ وصول کرلیں۔
کما فی مشکاة المصابیح: وَ عَن أبي حرَّة الرقاشِي عَن عَمه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان وَ الدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتَبى (2/889)۔
کمافی رد المحتار: مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه (الیٰ قوله) إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي(الیٰ قوله)وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ (4/61)۔
وفی البحر: والحاصل ان المذھب عدم التعزیر باخذ المال اھ(5/41)۔
مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار
یونیکوڈ تعذیر و جرمانہ 1