ماضی میں ، میں نے کچھ گناہوں کا ارتکاب کیا تھا، جن کا تعلق پیسوں سے ہے، یہ چھ سال پہلے کی بات ہے، میں نے چند جعلی مضامین کو ebay میں بیچا تھا ،اور کچھ پیسے کمائے تھے ، جسے میں استعمال کر چکا ہوں ، اب مجھے اپنے گناہ کا احساس ہوا ہے، جو فراڈ اور جھوٹ سے متعلق تھا، میں نے اس کا کفارہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بالخصوص ان پیسوں کا جو میں نے حرام طریقے سے کمائے تھے، میرے لئے یہ ناممکن ہے کہ میں دوبارہ ebay کے اکاؤنٹ پر جا کر اس کے خریدار کو تلاش کروں ،اور اسے پیسے واپس کروں، از راہِ کرم مجھے اس مسئلہ کے بارے میں آگاہ کریں، اور اگر اس کا کوئی متبادل بھی ہو تو اس سے بھی آگاہ کریں، تاکہ جو حرام پیسے میں نے کمائے تھے ، اس کا مسئلہ حل ہو سکے۔ اگر میں حرام رقم کا تخمینہ لگا کر اسے صدقہ کردوں ،تو کیا اس سے کفارہ ادا ہو جائے گا؟ ایک ملٹی نیشنل فیشن اور برانڈڈ کپڑوں کی کمپنی ہے جو ایچ ایم سے جانی جاتی ہے، جس میں آن لائن پوری دنیا میں خرید وفروخت ہوتی ہے، میں نے اس میں بھی بہت سے ایسے فراڈ کیے ہیں ، جن کا تعلق پیسوں سے ہے، یہ فراڈ میں نے آن لائن اسٹور اور ریٹیل اسٹور دونوں میں کیا ہے، میں نے جو کچھ بھی کیا ، اس پر شرمندہ ہوں اور ان کا کفارہ ادا کرنا چاہتی ہوں ، مجھے کسی نے کہا ہے کہ اس صورت میں چونکہ مالک معلوم اور زندہ ہے ، لہذا مجھے یہ فراڈ کی ہوئی رقم اس کے مالک تک لوٹا نا لازم ہے ، میں نے اس حوالے سے بہت سوچا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے، مگر کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی، اگر میں نے ان کے مینیجر سے رابطہ کر لیا تو غیر متوقع صورتحال پیش آسکتی ہے، کیونکہ جس فراڈ کا میں نے ارتکاب کیا تھا وہ غیر قانونی تھا۔ مجھے اس بات کا بھی یقین نہیں کہ یہ پیسے میں جس کو بھیجوں گا، وہ اس تک پہنچیں گے بھی یا نہیں ، کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میں ایک لفافے میں پیسے ڈال کر اس کے پتہ پر ارسال کردوں؟ میں نے اس بارے میں بھی سوچا کہ میں ان سے آن لائن مہنگے ڈیزائننگ کپڑے خرید لوں اور انہیں اس صورت میں بطور معاوضہ رقم لوٹا دوں ، مگر مجھے پریشانی ہوئی کہ کہیں اس سے انہیں شک نہ ہو جائے اور مجھے نہیں لگتا کہ میں یہ پیسے مہنگے کپڑوں کے باکس میں بغیر کسی شناخت کے یا رسید کے ان کو لوٹاؤں ، اب میں نے طے کر لیا کہ مجھے شرعی طریقے کے مطابق یہ کرنا چاہیئے ، میں بہت پریشان ہوں کہ اگر میں یہ اپنے طریقے سے کروں گی تو ہو سکتا ہے کہ وہ صحیح اور شریعت کے مطابق نہ ہو اور شاید اس گناہ پر مجھ سے مؤاخذۂ اخروی بھی ہو۔ میں بہت پریشان ہوں اور جتنی ممکنہ تفصیلات تھیں ، وہ میں نے آپ کو بتادیں۔ میں شریعت کی روشنی میں اپنے گناہوں کا کفارہ چاہتی ہوں ۔ آپ اس حوالے سے میری رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ نے مذکور کمپنی کےساتھ جو فراڈ کیا ہے ، ان تک رقم لوٹانا چونکہ ممکن ہے ، اس طور پر کہ سائلہ نے جتنی رقم کا فراڈ کیا ہے، اتنی رقم مذکور کمپنی کے آن لائن اکاؤنٹ میں ڈال دے، یا کسی لفافے میں بند کر کے کمپنی کے نام ارسال کر دے، یا کسی بھی ممکنہ طریقے سے مذکور کمپنی تک رقم پہنچائے، لیکن ان کے سامنے اپنے اس فراڈ کا تذکرہ کرنا کوئی لازم نہیں، بلکہ ان سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ میں نے کمپنی کے ساتھ کچھ لین دین کیے تھے، لیکن مجھے ایسا گمان ہو رہا ہے کہ میں نے اس کی رقم ادا نہیں کی، اس لئے اب اپناذ مہ فارغ کرنا چاہتی ہوں، چنانچہ اس طرح کرنے سے سائلہ برئ الذمہ ہو جائے گی، جبکہ " obay" کے ذریعے سائلہ نے جن لوگوں کیساتھ فراڈ کیا ہے کہ کسی بھی طرح ان کو رقم واپس کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں غالب گمان کے مطابق جتنی رقم سائلہ نے استعمال کی ہے، وہ بلانیتِ ثواب مالکان کی طرف سے مستحق لوگوں پر صدقہ کر دے ، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے اس عمل پر بصدقِ دل تو بہ واستغفار بھی کرے اور آئندہ کیلئے اس طرح کی سرگرمیوں سے مکمل اجتناب کرے۔
كما في الشامية: تحت (قوله كما بسطه الزيلعي) حيث قال لانه كالمغصوب (إلى قوله) وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة. ولا ياخذون منه شيئاً وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، ولا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اھ (۶/385)-