آج کل کپڑوں کی ڈیزائننگ کی ہوبہو نقل (Replica) کا کاروبار چل رہا ہے، یہ بنیادی طور پر مشہور ڈیزائنرز کےڈیزائن کئے ہوئے کپڑوں کی طرح ڈیزائننگ کرتے ہیں، اگرچہ اس میں کوئی کاپی رائٹ کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ڈیزائنرز اوران کی ٹیم کے لوگ اپنی کڑی محنت کے نتیجہ میں اصلی ڈیزائن کے مطابق ہوبہو کپڑوں میں نقش ونگاری کرتے ہیں، میں یہ کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں اور آگے اسی کی ہی ویلیوں ہوگی، اصلی ڈیزائن کی نہیں ہوگی، کیا اسلامی نقطہ نظر سے اس قسم کا کاروبار کرنے کی اجازت ہے؟
اگر کپڑوں کی ڈیزائننگ کی ہو بہو نقل کرتے وقت کاپی رائٹ یا مشہور ڈیزائنرز کی تجارتی علامت (Trade mark) کو اپنے نام سے استعمال کرنے کا مسئلہ نہ بنتا ہو، اور نہ مشہور ڈیزائنرز کو اس پر اعتراض ہو، بلکہ مذکورہ ڈیزائننگ ، ڈیزائنرز اور انکی ٹیم کی اپنی محنت کے نتیجہ میں ہی کپڑوں پر کی جاتی ہے تو بلاشبہ یہ کاروبار جائز ہے، اور اس سے حاصل شدہ آمدنی بھی حلال ہے۔
کما فی فقہ البیوع: ان حق الابتکار والتالیف حق معتبر شرعاً، فلایجوز لاحد ان یتصرف فی ھذا الحق بدون اذن من المبتکر او المؤلف الخ (ج1 صـ286)۔
وفی مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی: یجوز التصرف فی الاسم التجاری او العلامۃ التجاریۃ ونقل ای منھا بعوض مالی اذا انتفی الغرر والتدلیس والغش باعتبار ان ذالک اصبح حقا الخ (ج2 صـ10572)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0