السلام علیکم ! اللہ پاک سے امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے ایک مسئلہ درپیش ہے جس میں آپکی راہنمائی کی اشد ضرورت ہے ، میں ریاض سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہوں اور اللہ کی توفیق سے اکثر عمرہ کے لیے جانا ہوتا ہے ، جس کے لیے اکثر عمرہ کی کتابوں کا مطالعہ چلتا رہتا ہے ، ایک کتاب ( حج و عمره از مولانا یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ ترتيب مولانا محمد یحیٰ لدھیانوی ) میں پڑھا کہ جو بھی آفاقی ہوگا اسکو چاہیے کہ احرام میقات سے باندھے نہ کے مسجد عائشہ سے، اور مسجد عائشہ صرف مکہ والوں کے لیے ہے، جو آفاقی مسجد عائشہ سے احرام باندھے گا اس پر دم واجب ہو گا ، تو اب سوال یہ ہے کہ پاکستان سے یا میقات کے باہر کہیں سے بھی عمرہ کے لیے آئے تو میقات سے احرام باندھ لیا اور عمرہ بھی دا کر لیا تو اب ارادہ کیا کہ ایک عمرہ مزید کیا جائے تو دوبارہ احرام باندھنے کے لیے مسجد عائشہ جا سکتا ہے یا دوبارہ نزدیکی میقات پہ جانا پڑے گا ؟کیونکہ اکثر ہمارے بھائی مسجد عائشہ سے ہی احرام باندھ لیتے ہیں، تو کیا انکا احرام معتبر ہوگا ؟ آپ سے استدعا ہے کہ مہربانی فرما کر تفصیلاً جواب دیں ۔
آفاقی اپنے ملک سے آتے ہوئے جب ایک دفعہ اپنے میقات سے حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہو جائے تو جب تک مکہ مکرمہ سے باہر نہ نکل جائے اس وقت تک وہ مکی شمار ہوگا ، اور وہ مکہ والوں کی طرح مسجدِ عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے احرام باندھ کر مزید عمرے ادا کرے گا۔
کما فی الرد تحت :(قوله يعني إلخ) أشار إلى ما فی البحر من قوله والمراد بالمكي من كان داخل الحرم سواء كان بمكة أو لا، وسواء كان من أهلها أو لا. اهـ.فی شمل الآفاقي المفرد بالعمرة والمتمتع والحلال من أهل الحل إذا دخل الحرم لحاجة كما فی اللباب (قوله ليتحقق نوع سفر) لأن أداء الحج فی عرفة، وهي فی الحل فی كون إحرام المكي بالحج من الحرم ليتحقق له نوع سفر بتبدل المكان، (الی قوله ) (قوله والتنعيم أفضله) هو موضع قريب من مكة عند مسجد عائشة اھ (2/478)۔
و فیه أیضاً(قوله وصار مكيا) لأن من وصل إلى مكان على وجه مشروع صار حكمه حكم أهله، وهنا لما وصل إلى مكة محرما بالعمرة وفرغ منها صار فی حكم المكي سواء ساق الهدي أم لا، فإذا أراد الإحرام بالحج فميقاته الحرم أو العمرة فالحل اھ (2/581)۔