السلام علیکم! حضرت میرا سوال ہے کہ ۲۷؍ رجب شب معراج کے روزے کی کیا حقیقت ہے؟ نیز حضرت عمرؓ نے جو ۲۷؍ رجب کا روزہ تڑوایا تھا اس کا حوالہ بھی لکھ دیں کیونکہ بریلیوں نے تنگ کیا ہوا ہے کہ حوالہ لاؤ۔ جزاک اللہ!
واضح رہے کہ ۲۷؍ رجب کا روزہ سنت سمجھ کر رکھنا بدعت ہے اور اس دن روزہ رکھنے میں ستائیسویں رجب کے عنوان سے اہل بدعت سے مشابہت بھی پائی جاتی ہے اس لئے اس دن روزہ رکھنے سے اجتناب کرنا چاہئے جبکہ حضرت عمرؓ کا رجب کا روزہ رکھنے سے منع کرنا بھی اسی بناء پر تھا کہ لوگ اس کو سنت نہ سمجھ لیں چنانچہ روزہ تڑوانے کا واقعہ احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے جس کا حوالہ درج ذیل ہے:
کما فی عمدۃ القاری: ذہب جمہور السلف والخلف علی أن الاسراء کان ببدنہ وروحہ وأما فی مکۃ إلی بیت المقدس فبنص القرآن وکان فی السنۃ الثانیۃ عشرۃ من النبوۃ وفی روایۃ البیہقی من طریق موسی بن عقبۃ عن الزہری أنہ أسری بہ قبل خروجہ إلی المدینۃ بسنۃ وعن السدی قبل مہاجرتہ بستۃ عشر شہرا فعلی قولہ یکون الاسراء فی شہر ذی القعدۃ وعلی قول الزہری یکون فی ربیع الاول وقیل کان الاسراء لیلۃ السابع والعشرین من رجب وقد اختارہ الحافظ عبد الغنی بن سرور المقدسی فی سیرتہ ومنہم من یزعم أنہ کان فی أول لیلۃ الجمعۃ من شہر رجب (إلی قولہ) ثم قیل کان قبل موت أبی طالب وذکر ابن الجوزی أنہ کان بعد موتہ فی سنۃ اثنتی عشرۃ للنبوۃ ثم قیل کان فی لیلۃ السبت لسبع عشرۃ لیلۃ دخلت من رمضان فی السنۃ الثالثۃ عشرۃ للنبوۃ وقیل کان فی ربیع الاول وقیل کان فی رجب واللہ اعلم۔ (ج۴، ص۳۹)
وفی مشکاۃ المصابیح: عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ’’أفضل الصیام بعد رمضان شہر اللہ المحرم‘‘ (ج۱، ص۱۷۸) قال صاحب مرقاۃ المفاتیح تحت ہذا الحدیث قال الطیبی: أراد ’’بصیام شہر اللہ‘‘ صیام یوم عاشوراء (إلی قولہ) وأما حدیث صوم رجب فقال بعض الحفاظ انہا موضوعۃ۔ (ج۴، ص۵۳۲)۔
وفی المصنف لابن أبی شیبۃ: عن عمران بن حصین قال: لا تصم یوما تجعل صومہ علیک حتما لیس من رمضان۔
وعن جابر بن عامر وعن حماد عن ابراہیم أنہما کرہا أن یصوما یوما یوقِّتانہ۔ (ج۶، ص۱۹۸،۱۹۹)
وفی المصنف لابن أبی شیبۃ: ابو معاویۃ عن الاعمش عن وبرۃ بن عبد الرحمٰن عن خرشۃ بن الحر قال: رأیت عمر یضرب أکفّ الناس فی رجب حتی یضعوہا فی الجفان ویقول: کلوا، فانما ہو شہر کان یعظمہ أہل الجاہلیۃ۔ (ج۶، ص۳۳۴) باب فی صوم رجب وماجاء فیہ؟) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1