میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہوں اور دخول نہیں کرتا اور اگر مادہ منویہ باہر خارج کرتا ہوں تو کیا میں گناہ کا ارتکاب تو نہیں کر رہا؟ یہ بھی بتادیں کہ کیا بیوی اپنے شوہر کی چھاتی چوس سکتی ہے؟
اگر یہ معاملہ اتفاقیہ یا ایک آدھ مرتبہ کا ہے تو اس میں حرج نہیں، البتہ اگر سائل کسی مجبوری اور عذر کی وجہ سے مستقل ”عزل“کرنا چاہتا ہو تو تب بھی بیوی کی رضا مندی سے درست ہے، جبکہ بیوی کیلئے شوہر کی چھاتی کو چوسنا جائز اور درست ہے۔
كما فی الدر المختار: (ويعزل عن الحرة) وكذا المكاتبة نهر بحثا (بإذنها) لكن فی الخانية أنه يباح فی زماننا لفساده اھ(3/ 175)
و فی رد المحتار: وفی البدائع أن من أحکام ملك المتعة، وهو اختصاص الزوج بمنافع بضعها وسائر أعضائها استمتاعا (الى قوله) والظاهر أن المراد ليس لها إجبار على ذلك لا بمعنى أنه لا يحل لها إذا منعها منه؛ لأن من أحكام النكاح حل استمتاع كل منهما بالآخر، اھ (3/4)