میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا یہ جائز ہے کہ ایک شخص گھر یا زمین خریدے اور اس کو اپنے پاس رکھے یہاں تک کہ اس کی قیمت بڑھ جائے ،میرے نزدیک یہ شدیدطور پر ناجائز ہے، جیسا کہ ذخیرہ اندوزی اسلام میں ممنوع ہے، اور زمین کا خریدنا اور انتظار کرنا کہ اس کی قیمت بڑھ جائے،ذخیرہ اندوزی ہے، جو چھوٹے اور بڑے پیمانے پر ہوتی ہے، جیسا کہ کوئی شخص آلو خریدے جبکہ وہ کم قیمت پر ہو،، اور انتظار کرے یہاں تک کہ اس کی قمیت بڑھ جائے مہربانی کر کے اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں۔
واضح ہو کہ انسانوں اور حیوانات کے کھانے کی اشیاء کے علاوہ دیگر اشیاء صرف وغیرہ کو خرید کر اپنی ملکیت میں روکے رکھنا پھر ان کے منگا ہونے پر فروخت کر کے نفع حاصل کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، یہ ممنوع ذخیرہ اندوزی میں داخل نہیں، اور کھانے پینے کی اشیاء بھی ذخیرہ ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں اس وقت آتی ہیں، جبکہ لوگوں کی ضرورت کے وقت ایسا کیاجائے، ورنہ یہ بھی ممنوع ذخیرہ اندوزی میں داخل نہیں ہوگا۔
کما فی قواعد الفقھیہ: الاحتکار اشتراء قوت البشر والبھائم وحسبہ الی الغلاء الخ (162)۔
وفی الدرالمختار: (و) كره (احتكار قوت البشر) كتبن وعنب ولوز (والبهائم) كتبن وقت (في بلد يضر بأهله) لحديث «الجالب مرزوق والمحتكر ملعون» فإن لم يضر لم يكره الخ (6/398)۔
و فی ردالمحتار: تحت قولہ (قوله وكره احتكار قوت البشر) (الی قولہ) وشرعا: اشتراء طعام ونحوه وحبسه إلى الغلاء أربعين يوما لقوله - عليه الصلاة والسلام - «من احتكر على المسلمين أربعين يوما ضربه الله بالجذام والإفلاس» الخ (6/398)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0