EFU انشورنس والے جو کہ یہ کہتے ہیں کہ جائیداد لے کر ان سے جو کرایہ آتا ہے، اس سے وہ ہمیں نفع دیں گے، کیا یہ جائز ہے؟ اور ای EFU اسٹیٹ لائف انشورنس اور ایف یو لائف انشورنس والوں نے دارالعلوم کورنگی کا فتوی بتایا ہے ، اس میں لکھا ہے کہ یہ جائز ہے، مفتی ابراہیم کے دستخط ہیں، از راہِ کرم اس حوالے سے میری رہنمائی فرمائیں، جس طریقے سے انہوں نے بتایا ہے کہ یہ پورے ملک میں جائیداد وغیرہ لیتے ہیں، یا اسٹیٹ لائف اور ای ایف یو انشورنش کا کاروبار ہے، اور پھر اس میں سے ہمیں نفع دیتے ہیں۔
EFU والوں نے ’’حمايۃ‘‘ کے نام سے ایک تکافل ونڈو کھولی ہے، جو کہ وقف اور وکالت کی بنیاد پر معاملہ کر کے فیملی تکافل کی سہولت فراہم کر رہی ہیں جو شرعاً بھی جائز ہے، اس لئے اس کی پالیسی لینے کی گنجائش ہے۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0