السلام علیکم!
مفتی صاحب،کیا بدعت کی بھی قسمیں ہوتی ہیں ؟ جیسے بدعت سیئہ اور حسنہ , اور اگر دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جائے جو خلافِ شرع نہ ہو اور اچھا عمل ہو تو کیا وہ بھی بدعت کہلائے گی ؟ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کسی نے غلافِ کعبہ شریف پر اتنا روپیہ خرچ کیا جتنا موجودہ دور میں ہوتا ہے اور ایک کثیر رقم خرچ کر کے غلافِ کعبہ نیا بنوایا جاتا ہے اور تبدیل کیا جاتا ہے ؟ کیا کوئی چیز مسلمانوں کی رہنمائی اور آسانی کے لئے ایجاد کی جائے وہ بھی بدعتِ سیئہ کہلاتی ہے ؟ جزاك الله –
(1) شرعاً بدعت کی صرف ایک ہی قسم ہے بدعت سیئہ اور وہ جائز نہیں، جبکہ دوسری جو بدعتِ حسنہ ہے وہ لغوی اعتبار سے بدعت بنتی ہے، یعنی ایسا کام جس کا مانع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خیر القرون کے زمانہ کے بعد زائل ہو گیا ہو یا اس کا داعیہ،محرک اور سبب بعد کو پیش آیا ہو اور کتاب وسنت اور اجماع و قیاس سے اس پر روشنی پڑتی ہو اور ان میں سے کسی دلیل سے اس کا ثبوت ملتا ہو تو وہ بدعتِ حسنہ اور بالفاظِ دیگر بدعتِ لغوی ہوگی ۔
(2) خلفاءِ راشدین خصوصا امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ مبارکہ سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ ہر سال غلاف کو تبدیل کیا جاتا ہے اور اس کے حصے حجاج میں تقسیم کیے جاتے ہیں اور یہ غالباً اسکے بوسیدہ اور پرانا ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لئے اس کو بدعت کہنا غلط ہے۔
کما فی تفسیر ابن کثیر: تحت قولہ تعالی(بدیع السموات و الارض)والبدعة على قسمين : تارة تكون بدعة شرعية (الى قوله ) وتارة تكون بدعة لغوية كقول أمير المومنين عمر بن الخطاب عن جمعه اياهم على صلاة التراويح واستمرار هم نعمت المبدعة هذه (1/213)
و في البحر الرائق: اختاره الامام النووي رحمه الله في شرح المهذب فقال إن الأمر فيها الى الامام يصرف في بعض مصارف بيت المال بیعا وعطاء لما رواه الازدقى أن عمر رضى الله عنه كان ینزع كسوة البيت كل سنة فيقسمها على الحاج (3/44)
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1