السلام علیکم مفتی صاحب! براہِ کرم مجھے جو اب ذرا جلدی چاہیئے، میں ایک ڈاکٹر ہوں اور سرکاری ہسپتال میں کام کرتا ہوں،آج سے تقریبا دو ماہ پہلے میری منگنی میری اپنی ایک ایسی کلاس فیلو سے ہوئی ہے ، جو خود بھی ایک ڈاکٹر ہے ، میں اس کو چھ سال سے جانتا ہوں میں نے اس کی رضا مندی سے ہی اس کے گھر رشتہ بھیجا تھا، اس کے والدین نے تقریبا آٹھ ماہ بعد میرے والدین کو رشتہ کیلئے ”ہاں“ کر دی، اور یوں باقاعدہ رشتہ اور دعا ہو گئی، منگنی کے کچھ دنوں بعد لڑکی کا لہجہ تبدیل ہو گیا، کبھی ایک بہانہ کبھی دوسرا، غرض یہ کہ لڑکی نے مجھے رشتہ توڑنے کا کہا،میں نے بہت سمجھایا اور کہا کہ آپ کو جو بھی شکایت ہو مجھے بتاؤ مسئلہ حل ہو گا ان شاء اللہ ،لیکن وہ ایک بھی نہیں مانی،آخر میں اس نے بتا دیا کہ وہ کسی اور سے شادی کرنا چاہتی ہے، کیونکہ وہ اسی لڑکے کو بہت پہلے سے جانتی ہے ،مفتی صاحب قران اور شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی کیجئے کہ اس کا یہ مطالبہ جائز ہے اور یہ کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ جزاک اللہ خیراً!
منگنی ایک وعدۂ نکاح ہے اور اگر کوئی عذر شرعی نہ ہو تو اسکا پورا کرنا ضروری ہے، لیکن سوال میں مذکور بات اگر واقعۃً درست ہے اور لڑکی اپنی بات پر مصر ہو ،تو سائل کو چاہیئے کہ بعد کی پریشانیوں سے بچنے کیلئے کسی دوسری مناسب جگہ رشتہ و نکاح کا اہتمام کرلے۔
کما في الدر المختار: أو هل أعطيتنيها إن المجلس للنكاح، وإن للوعد فوعد اھ (3/ 12)