السلام علیکم! میرا فوٹو اسٹیٹ کا دوکان ہے، اس میں مختلف قسم کا فوٹو اسٹیٹ آتا ہے، رنگین بھی سادہ بھی ، اور آفی وئ سی کارڈ لوگ بناوانے آتے ہیں، تو اس کا کاروبار کرن اجائز ہے اور اس کے ساتھ شناختی کارڈ کاپی اور ضرورت کی تصویر جو شناختی سائز کی ہوتی ہے، اس کا کاروبار کرنا جائز ہے، اگر جائز ہے کہاں تک روپے لینے کا حکم ہے؟
تصویر بنانا یا بنوانا تو ناجائز اور حرام ہے اور احادیث میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں، البتہ بوقت ضرورت پاسپورٹ سائز تصویروں اور شناختی کارڈ وغیرہ کی فوٹو کاپیاں کرنا اور اس پر اجرت لینا ہر دو امور شرعاً جائز ہیں ۔
ففي مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذابا عند الله المصورون» متفق عليه (2/ 1274)
و في الأشباه والنظائر – حنفي: الأولى : الضرورات تبيح المحظورات : ومن ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة اھ (ص: 107) والله اعلم بالصواب