کیا ہم یزید کو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ سکتے ہیں ؟میں نے دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ دیکھا ، انہوں نے کہا کہ ہم یزید کو رحمہ اللہ کہہ سکتے ہیں ، میں یزید کے بارے میں جاننا چاہتاہوں (1)کیا دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ درست ہے ؟ (2) کیا ہم یزید کو رضی اللہ عنہ کہہ سکتے ہیں ؟ (3) کیا یزید مسلمان ہے ؟ (4)کیا ہم یزید کو کافر اور لعنۃ اللہ علیہ کہہ سکتے ہیں ؟
یزید کو کافر کہنا اور اس پر لعنت کرنا یا اس کے مقام ومرتبہ کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہر دو امور درست نہیں، بلکہ اس بارے میں توقف بہتر ہے، جبکہ اس کا اسلام پر مرنا یقینی ہے، اس لیے رحمۃاللہ وغیرہ کے الفاظ کہنے میں حرج نہیں ۔
ففی رد المحتار: حقيقة اللعن المشهورة هي الطرد عن الرحمة، وهي لا تكون إلا لكافر، ولذا لم تجز على معين لم يعلم موته على الكفر بدليل وإن كان فاسقا متهورا كيزيد على المعتمد، (3/ 416)
وفی معارف السنن : و یزید لاریب فی کونہ فاسقا، و لعلماء السلف فی یزید و قتلہ الإمام الحسین خلاف فی اللعن و التوقف، قال ابن الصلاح : فی یز ید ثلاث فرق، فرقۃ تحبہ و فرقۃ تسبہ و تلعنہ، و فرقۃ متوسطۃ لاتتولاہ و لا تلعنہ، قال: و ھذہ الفرقۃ ھی المصییبۃ اھ (ج6ص10)۔
وفی الدر المختار : (ويستحب الترضي للصحابة) (إلی قولہ) (والترحم للتابعين ومن بعدهم من العلماء والعباد وسائر الأخيار وكذا يجوز عكسه) الترحم وللصحابة والترضي للتابعين (6/ 754) والله أعلم بالصواب!
کیا حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے دورانِ عدت شادی کی تھی؟
یونیکوڈ تاریخی شخصیات 0