محترم المقام جناب حضرت مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
امید واثق ہے کہ آپ بفضل تعالیٰ خیرت سے ہونگے ۔۔۔ ہمارے علاقہ میں ان دنوں تین چار معاملات اس نوعیت کے زیر بحث ہیں، جن کا کوئی حقیقی ثبوت سامنے موجود نہیں ہے، جناب سے استدعاء ہے کہ متذکرہ معاملات میں دینی تعلیمات اور تاریخ کی روشنی میں رہنمائی فرماکر تحقیقی صور تحال کو واضح فرمادیں تا کہ فتنہ کو سر اٹھانے سے پہلے ہی دبادیا جائے، جناب کی مہربانی ہوگی،
سوال نمبر ایک : حضرت اماں عائشہ صدیقہ کا انتقال کیسے ہوا، اور کب ہوا؟ اوران کی قبر مبارک کہاں پر واقع ہے ۔۔۔۔۔ اس ضمن میں کہا جارہا ہے کہ حضرت امیر معاویہ نے ایک سازش کر کے ایک کنواں نماء گڑھا کھودا، جس پر عارضی پر دہ رکھ کر وہاں اماں عائشہ صدیقہ کو کرسی پر بٹھایا گیا، جبکہ کرسی پر بیٹھتے ہی ماں صاحبہ کنویں نماء گڑھا میں گر گئیں، اور وہیں انکا انتقال ہو گیا، جس پر مٹی ڈال دی گئی۔
سوال نمبر دو: حضرت یزید کی موت کسی طرح واقع ہوئی ؟ کیا اسکی نماز جنازہ اداکی گئی؟ اور انہیں کہاں دفن کیا گیا ۔۔۔ ہمارا تعلق اہلسنت والجماعت (حنفی دیوبندی) کے ساتھ چلا آرہا ہے جسے ہم تمام حوالوں سے معتبر مانتے ہیں۔ حضرت یزید کے بارے میں بھی متضاد رائے پائی جاتی ہے، ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم حضرت یزید کے بارے میں کیا خیال رکھیں ؟؟
(۱) حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا انتقال رمضان المبارک کے مہینے میں 58ھ کو طبعی طور پر ہوا ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں آپ کی تدفین ہوئی، جبکہ سوال میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے متعلق جو واقعہ مذکور ہے اسکی کوئی حقیقت نہیں۔
(2) یزید کا انتقال بھی طبعی طور پر دمشق کے حوارین نامی گاؤں میں ہوا ،ان کی نماز جنازہ ان کے بیٹے معاویہ ابن یزید نے پڑھائی اور وہاں باب الصغیر کے مقبرہ میں دفن کر دیے گئے،جبکہ یزید کے متعلق جمہور اہلسنت کا نظریہ یہ ہے کہ اس کو پار سا ثابت کرکے اس کی مدح سرائی سے احتراز کیا جائے مگر اس کی تمام تر سیاہ کاریوں کے باوجو د چونکہ اس کا خاتمہ کفر پر ہو نا کسی دلیل قطعی سےثابت نہیں اس لئے اس کے کفر اور جہنمی ہونے میں بجائے حتمی بات کرنے کے توقف کیا جائے اور اس کا نام لے کر گالیاں بکنے اورلعنت اور ملامت کرنے سے بھی احتراز کیا جائے۔
كما في البداية والنهاية: وقد كانت وفاتها في هذا العام سنة ثمان وخمسين وقيل قبله بسنة، وقيل بعده بسنة، والمشهور في رمضان منه وقيل في شوال والأشهر: ليلة الثلاثاء السابع عشر من رمضان، وأوصت أن تدفن بالبقيع ليلا، وصلى عليها أبو هريرة بعد صلاة الوتراھ ( ج 5 ص (593) –
وفيها ايضا مات يزيد بحوارين من قرى دمشق في رابع عشر ربيع الأول (الى قوله) ثم حمل بعد موته إلى دمشق وصلى عليه ابنه معاوية بن يزيد أمير المؤمنين يومنذ ودفن بمقابر باب الصغير (ج 5 ص 750)
وفى معارف السنن : ويزيد لا ريب في كونه فاسقا ولعلماء السلف في يزيد وقتله الامام الحسين خلاف فى اللعن والتوقف قال ابن الصلاح في يزيد ثلاث فرق فرقة تحبه وفرقة تسبه وتلعنه وفرقة متوسطة لا تتولاه ولا تلعنه قال وهذه الفرقه المصيبة اهـ ( ج 6 ص (10) والله اعلم بالصواب
کیا حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے دورانِ عدت شادی کی تھی؟
یونیکوڈ تاریخی شخصیات 0