(۱) عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کون ہیں؟ (۲) ان کے مسلک کے بارے میں بتائیں اور ختمِ نبوت کےلیے انہوں نے کیا کیا؟ (۳) انٹرنیٹ پر کچھ سائٹ کہتی ہیں کہ وہ غدّار تھا اور دوسری سائٹ کہتی ہیں کہ وہ ہیرو تھا، بچپن میں میں نے ان کے بارے میں کچھ پڑھا تھا، لیکن اب آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
سید الاحرار حضرت امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے کسی قسم کی کوئی غداری نہیں کی، بلکہ آپؒ سچے عاشقان رسولﷺ میں سے تھے، جو لوگ ان کے خلاف لب کشائی کر رہے ہیں، وہ دشمنانِ اسلام ہی ہوسکتے ہیں، شاہ صاحب کی خدمات بلا شبہ مسلم ہیں، جبکہ آپؒ کا پورا نام ونسب تعلیمی وتربیتی سلسلہ اور حالاتِ زندگی سے متعلق کچھ تفصیل بھی تحریر کی جارہی ہے۔ ملاحظہ ہو:
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی ولادت یوم جمعہ بوقت سحر ۱۴ ربیع الاول ۱۳۱۰ھ ۱۸۹۱ء کو پٹنہ صوبہ بہار (بھارت) میں ہوئی۔آپ کے والد محترم کا نام حافظ سید ضیاء الدین احمد اور دادا کا نام سید نور الدین احمد تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب چھتیسواں پُشت میں حضرت حسینؓ سے جا ملتاہے، آپ نجیب الطرفین یعنی والد اور والدہ دونوں طرف سے سید تھے۔ چار برس کے تھے کہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ پرورش والد صاحب نے خود فرمائی۔ ابتدائی کتابیں اپنے نانا ہی سے گھر میں پڑھیں اور قرآن کریم حفظ کیا، قرأت قاری سید عمر صاحب عرب سے سیکھی، پٹنہ سے پنجاب منتقل ہوئے تورا جودال میں قاضی عطاء محمد صاحب امر تسری میں پڑھتے رہے۔ اس کے بعد۱۹۱۴ء میں امر تسر آگئے اور وہاں مولانا الحاج نور احمد صاحب امر تسری سے قرآن پاک کی تفسیر پڑھی، فقہ، اصول فقہ کی تعلیم حضرت الحاج مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی سے حاصل کی۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسن (بانی جامعہ اشرفیہ لاہور) سے حدیث پڑھی آپ سب سے پہلے حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑہ والوں سے بیعت ہوئے، ان کے وصال کے بعد آپ شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ کے خلیفہ اور جانشین حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری سے دوبارہ بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوگئے، حضرت رائے پوریؒ شاہ صاحب سے محبت فرماتے تھے، جب شاہ صاحب کے انتقال کی خبر شیخ کو پہنچی تو بے اختیار رو پڑے اور رونے میں آواز تک نکل گئی۔
شاہ صاحب نے چالیس برس تک تنہا شرک وبدعات، رسومات اور تمام سماجی برائیوں کے خلاف مسلسل جہاد کیا، انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے، مرزائیت کو شکستِ فاش دی اور دریدہ دہن آریہ سماجیوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا، فرنگی کے خلاف شاہ صاحب کی زبان سے الفاظ نہیں شعلے برستے تھے، ان کی آنکھیں گہری سُرخ ہوتیں اور سننے والے ہر لب پر صدائے تحسین اور آنکھ میں آنسو ہوتے، ان کی تقریر نہ تھی ساحرانہ فن کاری کا مخلصانہ گہوارہ تھی، حلقۂ احرار کی تاریخ اگر مرتّب کی جائے تو اس کی مجموعی قربانی کا نام ’’سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘‘ ہوگا بلند مرتبہ اجتہای شان اور مقبولیت عوام کے اونچے معیار کے باوجو عجز وانکساری کا دامن سنبھالےرہے وہ درویشانہ زندگی بسر کرتے رہے، دنیا کی کوئی نقری فریب کاری انہیں متاثر نہ کرسکی۔ آزادی وطن کے حصول اور ختم نبوت کی حفاظت کیلیے جو شاہراہ انہوں نے متعیّن کرلی تھی آخری سانس تک اُسے نبھاتے رہے۔
قادیانیت کی تردید کے سلسلے میں آپ کو محدّثِ عصر حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیرہؒ کی خاص توجہات حاصل رہیں اس فتنہ عظیم کے استیصال کے سلسلے میں حضرت محدث کشمیرہ کی ہدایت پر آپ سالہا سال تک مخلصانہ خدمات انجام دیتے رہے، یہاں تک کہ اس سلسلہ میں گرفتار ہوئے اور آپ کو ایک بہت بڑے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا، جس میں قادیانیوں اور ان کی سرپرستی کرنے والی برطانوی حکومت نے اپنی ساری طاقتیں آپ کے خلاف داؤ پر لگادی تھیں، تحفظِ شریعت، محبت رسولﷺ اور جنگ آزادی کا کوئی محاذ ایسا نہ تھا جس پر شاہ صاحب کی آتشنوائی، گرم گفتاری اور اُن کی پرکشش شخصیت نے ایثار وقربانی اور عزیمت وفدا کاری کا عام جذبہ نہ پیدا کردیا ہو، اس مخلص اور بے غرض رہنما نے اپنی زندگی کےکم از کم پندرہ سال آہنی سلاخوں کے پیچھے گزار دیئے۔ یہ مردِ مجاہد قادر الکلام خطیب یہ مخلص سپاہی اور ریاضِ رسالت کا یہ چمکتاہوا بلبل کئی برس کی صبر آزما علالت کے بعد ۲۱ اگست ۱۹۴۱ء چھ بجے شام یہ لاثانی خطیب اور مجاہد آزادی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے۔ ’’اللهم اغْفِرْ له وارحَمْهُ‘‘ بڑے فرزند سید عطاء المنعم بخاری نے نمازِ جنازہ کی امامت فرمائی۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ آدمی نمازِ جنازہ میں شریک تھے۔ باغ لانگے خان کے نزدیک جلال باقریؒ کے مشہور قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
ختمِ نبوت (ﷺ) کے بارے میں آپ کی خدمات کی تفصیل کیلیے چوہدری غلام نبی امر تسری کی تالیف ’’تحریک کشمیر سے تحریکِ ختم نبوت تک‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب!
کیا حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے دورانِ عدت شادی کی تھی؟
یونیکوڈ تاریخی شخصیات 0