تاریخی شخصیات

سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا تعارف، مسلک اور خدمات

فتوی نمبر :
11138
| تاریخ :
0000-00-00
تاریخ / تاریخ اسلام / تاریخی شخصیات

سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا تعارف، مسلک اور خدمات

(۱) عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کون ہیں؟ (۲) ان کے مسلک کے بارے میں بتائیں اور ختمِ نبوت کےلیے انہوں نے کیا کیا؟ (۳) انٹرنیٹ پر کچھ سائٹ کہتی ہیں کہ وہ غدّار تھا اور دوسری سائٹ کہتی ہیں کہ وہ ہیرو تھا، بچپن میں میں نے ان کے بارے میں کچھ پڑھا تھا، لیکن اب آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سید الاحرار حضرت امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے کسی قسم کی کوئی غداری نہیں کی، بلکہ آپؒ سچے عاشقان رسولﷺ میں سے تھے، جو لوگ ان کے خلاف لب کشائی کر رہے ہیں، وہ دشمنانِ اسلام ہی ہوسکتے ہیں، شاہ صاحب کی خدمات بلا شبہ مسلم ہیں، جبکہ آپؒ کا پورا نام ونسب تعلیمی وتربیتی سلسلہ اور حالاتِ زندگی سے متعلق کچھ تفصیل بھی تحریر کی جارہی ہے۔ ملاحظہ ہو:
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی ولادت یوم جمعہ بوقت سحر ۱۴ ربیع الاول ۱۳۱۰ھ ۱۸۹۱ء کو پٹنہ صوبہ بہار (بھارت) میں ہوئی۔آپ کے والد محترم کا نام حافظ سید ضیاء الدین احمد اور دادا کا نام سید نور الدین احمد تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب چھتیسواں پُشت میں حضرت حسینؓ سے جا ملتاہے، آپ نجیب الطرفین یعنی والد اور والدہ دونوں طرف سے سید تھے۔ چار برس کے تھے کہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ پرورش والد صاحب نے خود فرمائی۔ ابتدائی کتابیں اپنے نانا ہی سے گھر میں پڑھیں اور قرآن کریم حفظ کیا، قرأت قاری سید عمر صاحب عرب سے سیکھی، پٹنہ سے پنجاب منتقل ہوئے تورا جودال میں قاضی عطاء محمد صاحب امر تسری میں پڑھتے رہے۔ اس کے بعد۱۹۱۴ء میں امر تسر آگئے اور وہاں مولانا الحاج نور احمد صاحب امر تسری سے قرآن پاک کی تفسیر پڑھی، فقہ، اصول فقہ کی تعلیم حضرت الحاج مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی سے حاصل کی۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسن (بانی جامعہ اشرفیہ لاہور) سے حدیث پڑھی آپ سب سے پہلے حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑہ والوں سے بیعت ہوئے، ان کے وصال کے بعد آپ شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ کے خلیفہ اور جانشین حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری سے دوبارہ بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوگئے، حضرت رائے پوریؒ شاہ صاحب سے محبت فرماتے تھے، جب شاہ صاحب کے انتقال کی خبر شیخ کو پہنچی تو بے اختیار رو پڑے اور رونے میں آواز تک نکل گئی۔
شاہ صاحب نے چالیس برس تک تنہا شرک وبدعات، رسومات اور تمام سماجی برائیوں کے خلاف مسلسل جہاد کیا، انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے، مرزائیت کو شکستِ فاش دی اور دریدہ دہن آریہ سماجیوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا، فرنگی کے خلاف شاہ صاحب کی زبان سے الفاظ نہیں شعلے برستے تھے، ان کی آنکھیں گہری سُرخ ہوتیں اور سننے والے ہر لب پر صدائے تحسین اور آنکھ میں آنسو ہوتے، ان کی تقریر نہ تھی ساحرانہ فن کاری کا مخلصانہ گہوارہ تھی، حلقۂ احرار کی تاریخ اگر مرتّب کی جائے تو اس کی مجموعی قربانی کا نام ’’سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘‘ ہوگا بلند مرتبہ اجتہای شان اور مقبولیت عوام کے اونچے معیار کے باوجو عجز وانکساری کا دامن سنبھالےرہے وہ درویشانہ زندگی بسر کرتے رہے، دنیا کی کوئی نقری فریب کاری انہیں متاثر نہ کرسکی۔ آزادی وطن کے حصول اور ختم نبوت کی حفاظت کیلیے جو شاہراہ انہوں نے متعیّن کرلی تھی آخری سانس تک اُسے نبھاتے رہے۔
قادیانیت کی تردید کے سلسلے میں آپ کو محدّثِ عصر حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیرہؒ کی خاص توجہات حاصل رہیں اس فتنہ عظیم کے استیصال کے سلسلے میں حضرت محدث کشمیرہ کی ہدایت پر آپ سالہا سال تک مخلصانہ خدمات انجام دیتے رہے، یہاں تک کہ اس سلسلہ میں گرفتار ہوئے اور آپ کو ایک بہت بڑے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا، جس میں قادیانیوں اور ان کی سرپرستی کرنے والی برطانوی حکومت نے اپنی ساری طاقتیں آپ کے خلاف داؤ پر لگادی تھیں، تحفظِ شریعت، محبت رسولﷺ اور جنگ آزادی کا کوئی محاذ ایسا نہ تھا جس پر شاہ صاحب کی آتشنوائی، گرم گفتاری اور اُن کی پرکشش شخصیت نے ایثار وقربانی اور عزیمت وفدا کاری کا عام جذبہ نہ پیدا کردیا ہو، اس مخلص اور بے غرض رہنما نے اپنی زندگی کےکم از کم پندرہ سال آہنی سلاخوں کے پیچھے گزار دیئے۔ یہ مردِ مجاہد قادر الکلام خطیب یہ مخلص سپاہی اور ریاضِ رسالت کا یہ چمکتاہوا بلبل کئی برس کی صبر آزما علالت کے بعد ۲۱ اگست ۱۹۴۱ء چھ بجے شام یہ لاثانی خطیب اور مجاہد آزادی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے۔ ’’اللهم اغْفِرْ له وارحَمْهُ‘‘ بڑے فرزند سید عطاء المنعم بخاری نے نمازِ جنازہ کی امامت فرمائی۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ آدمی نمازِ جنازہ میں شریک تھے۔ باغ لانگے خان کے نزدیک جلال باقریؒ کے مشہور قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
ختمِ نبوت (ﷺ) کے بارے میں آپ کی خدمات کی تفصیل کیلیے چوہدری غلام نبی امر تسری کی تالیف ’’تحریک کشمیر سے تحریکِ ختم نبوت تک‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شاہ نواز عباس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 11138کی تصدیق کریں
4     11541
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مزار کس شہر میں ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   تاریخی شخصیات 0
  • حضورؐ کے والدین کا ایمان لانا ثابت ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   تاریخی شخصیات 0
  • ڈاکٹرفرحت ہاشمی کی حقیقت

    یونیکوڈ   اسکین   تاریخی شخصیات 1
  • مولانا احمد رضا خان سے متعلق علماء دیوبند کا مؤقف

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 1
  • سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا تعارف، مسلک اور خدمات

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 4
  • یزید کے والد کا نام ۲۔ یزید کے جہنمی ہونے سے متعلق روایت کی تحقیق

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • الہدی انٹرنیشنل اور ڈاکٹر فرحت ہاشمی

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 1
  • ’’طلیحہ بن خویلد اسدی‘‘ کے ساتھ ’’رضی اللہ عنہ‘‘ لکھنا

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور پیر نصیر الدین کے عقائد:

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • یزید سے متعلق مؤقف اور واقعہ کربلا سے متعلق مفید کتاب

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کا مقام ومرتبہ

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • شیخ البانیؒ سے متعلق مؤقف

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • مولانا مسعود اظہرصاحب کی جماعت کے عقائد و نظریات

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 6
  • نزول مہدی سے متعلق عقیدہ

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • شیخ امین سے متعلق مؤقف

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • یزید سے متعلق مختلف سوالات

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • اشرف اللہ تھانویؒ کون تھے؟

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • کیایزید پر لعن طعن کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 1
  • کیا حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے دورانِ عدت شادی کی تھی؟

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • کیا اسامہ بن لادن شہید ہے ؟

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور یزید کاانتقال کب اور کیسے ہوا؟

    یونیکوڈ   تاریخی شخصیات 0
Related Topics متعلقه موضوعات