اسلام ایک آدمی کو اپنی بیوی سے زیادہ سے زیادہ کتنا عرصہ دور رہنے کی اجازت دیتا ہے؟ یعنی اگر ایک آدمی سعودی عرب روزی کمانے کیلئے جائے اور بیوی کو پاکستان چھوڑ جائے تو کیا حکم ہے ؟
صحت، قوت اور شہوت کے اعتبار سے تمام عورتوں کے حالات یکساں نہیں ہوتے اور علاقائی حالات و خوراک بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں، تاہم چار ماہ کے دوران ایک بار بیوی سے ملنا ضروری ہے، جبکہ معاشی ضروریات اور وقتی حالات کے تحت اس سے زائد عرصہ تک بھی بیوی کی رضامندی سے دور رہنے کی گنجائش ہے ۔
كما في الدر المختار: ولا يبلغ مدة الإيلاء إلا برضاها (وفی رد المحتار تحت) (قوله ولا يبلغ مدة الإيلاء) (الی قوله) ويؤيد ذلك أن عمر - رضي الله تعالى عنه - لما سمع في الليل امرأة تقول: فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد، فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر۔اھ (3/203)