میں فاتحہ کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتاہوں، عام پاکستانی لو گ 11ربیع الاول، 27رجب اور 15شعبان کو قرآن پڑھتے ہیں، جیسے کہ سورۃیٰس ، سورۃفاتحہ ، سورۃ کافرون، سورۃاخلاص،سورۃفلق،سورۃناس وغیرہ ۔ان سورتوں کو کھانے پر پڑھ کر دوست احباب پڑوسیوں اور غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں اس عقیدہ کے ساتھ کے یہ باعث خیروبرکت ہے ، کیا اس طرح کرنا ثابت ہے یا نہیں؟
فاتحہ خوانی کامذکور طریقہ بے اصل اور بدعت ہے ، قرون ثلاثہ مشہورلہا بالخیر سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اس لیے اس طرزِعمل سے احتراز لازم ہے ۔
ففی مشكاة المصابيح : عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد‘‘ متفق عليه (1 / 31) واللہ أعلم بالصواب
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1