مفتی صاحب ! میں نے ایک تکافل پالیسی خریدی ہے ،(جس کا نام سکون ہے) یہ داؤد تکافل کمپنی کی طرف سے ہے، اس میں مجھے سالانہ 25,000 (پچیس ہزار روپے دینے پڑتےہیں، پندرہ (15) سال تک ، اس کے بعد مجھے مزید پیسے ادا نہیں کرنے پڑیں گے، جبکہ میری پالیسی تیس (30) سال تک جاری رہے گی،پندرہ سال مکمل ہونے پر وہ مجھے (تقریباً ) ۱۰ لاکھ روپے دیں گے، اگر میں رقم لینا چاہوں ،اور اگر میں پالیسی جاری رکھنا چاہوں ،تو یہ رقم سال کے گزرنے پر بڑھتی رہے گی، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ حلال ہے یا نہیں؟
عمومی طور پر تکافل کمپنیاں ربا و قمار یا غررر پر مشتمل امور انجام دینے کی بجائے تعاون باہمی اور تبرع جیسے امور بجا لاتی ہیں، جن کے جواز میں شبہ نہیں، تاہم اس سلسلہ میں ہر ایک کے طریقہ کار میں تبدیلی ضرور ہوتی ہے، جو حکم میں تبدیلی کو مستلزم ہے، پھر داؤد تکافل کمپنی کی طرف سے اپنے طریقہ کار اور اس بات کی وضاحت کہ ان پالیسیوں کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی رقوم کے انویسٹمنٹ کی تفصیل کیا ہے , نہیں بتائی گئی، اس لئے اس کے پورے طریقہ کار کو جاننے سے قبل کسی قسم کا حکم قطعاً مناسب نہیں۔ واللہ سبحانہ أعلم بالصواب!
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0