صحت کی انشورنس جو ملازمین اور اس کے بیوی بچوں کے لئے کرائی جاتی ہے جس میں ملازمین کی میڈیکل اور ایکسیڈنٹ ڈیتھ انشورنس بھی شامل ہے اور عام علاج جیسے O.P.D بھی شامل ہے اور جو آج کل کی انشورنس کمپنیاں دیتی ہیں کیا یہ صحیح ہے؟ اور تکافل اسلامی انشورنس ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ کمپنی کا ہیلتھ انشورنس اسکیم کے تحت اپنے ملازمین کو مذکور سہولیات فراہم کرنا جبکہ اس کا ملازمین کی اجازت یا ان کی تنخواہ سے کوئی تعلق نہ ہو تو یہ متعلقہ کمپنی کی طرف سے ہبہ، تبرّع اور احسان ہے، ملازمین کو اس کے وصول کرنے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے میں شرعاً بھی کوئی حرج نہیں ۔
لیکن چونکہ مروّجہ انشورنس کمپنیوں کا طریقہ کار سود اور جوئے کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں اس لئے کمپنی انتظامیہ انشورنس کمپنی کے ساتھ اس قسم کا معاہدہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہو گی۔ جبکہ اس کا جائز اور متبادل صورت پاک قطر فیملی تکافل کمپنی ہے جس کے معاملات ان قباحتوں سے خالی ہونے کے ساتھ ساتھ امدادِ باہمی اور تبرّع کے اصول و ضوابط پر مبنی ہوتے ہیں۔
قال الله تعالى : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [المائدة: 90]۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0