سہاگ رات کا اسلامی طریقہ واضح کریں، سہاگ رات پے نفل کا کیا حکم ہے؟ اور کس طرح ادا کریں ؟ اگر کسی کو سہاگ رات کے بارے میں بتانا ہو تو اسلام کی روشنی میں واضح کریں۔
شادی کی پہلی رات جب شوہر بیوی کے پاس جائے تو کلام و گفتگو سے پہلے ’’ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘‘کہے اور پھر بیوی کی پیشانی کے بالوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھے۔
" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْئَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبِلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّمَا وَشَرِمَا جَبِلْتَهَا عَلَيْهِ "
یہ بھی آداب میں داخل ہے کہ اولا وضو کرے، پھر دو رکعت صلاۃ الحاجۃ پڑھ کر خیر و برکت اور تو افق و محبت اور پاکیزگی کے ساتھ دوام وبقاء، نیز صالح اولاد کے حصول کی دعا کرے، یہ دعا پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔
’’ اللهم بَارِكْ لِىْ فِي أَهْلِى وَبَارِكْ لَهُمْ فِيَّ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِیْ مِنْهُم وَارْزُقُهُمْ مِنِّىْ اللَّهُمَّ اجْمَعُ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ إِلَى خَيْرٍ وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلٰى خَيْرٍ ‘‘
اس کے بعد بیوی کے پاس بیٹھ کر اس کو مانوس کرنے کے لئے پیار بھرے انداز میں باتیں شروع کرے، باتوں باتوں میں یہ بات بھی واضح کرے کہ شریعت کے مطابق زندگی گزارنے میں ہم دونوں کی کامیابی ہے، جبکہ خلاف شریعت طریقوں کی پیروی سراسر نقصان دہ اور پریشانی کا باعث ہے، اس کے بعد جب ہمبستری کا ارادہ کرے تو بیوی کو پیار و محبت اور بوس و کنار کے ساتھ مانوس کر لیا جائے۔ اور ایسی صورت اختیار کی جائے جس سے وہ بھی آمادہ جماع ہو جائے ،پھر یہ دعا پڑھے۔
’’بِسْمِ اللهِ اَللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَنَ وَجَنِّبِ الشَّیْطٰنَ مَا رَزَقْتَنَا‘‘
جماع میں حتی الامکان ستر اور پر دہ ہونا چاہئے ، بالکل ننگا ہونا اچھا نہیں، بلکہ بقدرِ ضرورت ستر کھولنا چاہیئے اور باقی بدن پر کپڑا وغیرہ ڈال لیا جائے، جماع کے موقع پر قبلہ رخ نہ ہونا چاہیئے کہ اس میں احترام قبلہ کا لحاظ ہے، جماع کا ایک طریقہ جو اشارۂ قرآن کریم میں مذکور ہے، چنانچہ ارشاد ہے ’’فَلَمَّا تَغَشّٰهَا حَمَلَتْ حَمَلاً خَفِيفًا‘‘ یعنی جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو اسے ہلکا سا حمل رہ گیا۔
جماع میں عورت پیٹھ کے بل (چت) لیٹے اور نیچے رہے اور اپنی ٹانگوں کو پھیلائے ہوئے ہو اور مرد اس کے اوپر اس طرح لیٹے کہ دونوں کے عضو خاص ایک دوسرے کے مقابل ہو جائیں۔
اور دوسرا طریقہ جس کے متعلق حدیث پاک میں ارشاد ہے۔’’إِذَا فَعَدَهَا بَيْنَ شُعَبِهَا الأربع ثُمَّ جَهَدَهَا‘‘یعنی مرد جب اپنی بیوی کی شرمگاہ کے چاروں طرف کے درمیان بیٹھ جائے، پھر بیوی کو مشقت میں ڈالے۔ ’’شُعَبِ أَرْبَعْ‘‘سے مراد ہے عورت کے دوسرین اور دو ران۔ اور اس کے درمیان بیٹھنا اس طرح ہوگا کہ عورت لیٹی ہو اور اس کی ٹانگوں کو خم کر کے اس طرح سے اوپر کرے کہ اس کی را نیں پیٹ سے الگ ہو جائیں، اب شوہر دوزانوں ہو کر مجامعت کرے، اس دوران میاں بیوی کا ایک دوسرے کے بدن کو چھونا اور چومنا بلا شبہ درست ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں اور جب ہمبستری کر کے فارغ ہو جائے تو یہ دعا پڑھے۔
" اللهم لا تَجْعَلْ لِلشَّيْطٰنِ فِيمَا رَزَقْتَنَا نَصِيْبًا
اس کے بعد استنجاء اور وضو کر کے پھر سونا چاہیے، اس سے پاکیزگی حاصل ہو گی اور صبح ہوتے ہی نماز فجر سے پہلے غسل کر کے مرد مسجد کی طرف نماز کے لئے جائے اور عورت گھر میں نماز ادا کرے۔ مزید تفصیل کے لئے مولانا محمد ابراہیم پالنپوری کی تالیف ’’تحفۃ النکاح‘‘ اور’’آدابِ مباشرت‘‘ کتب کا مطالعہ مفید ر ہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب!